ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں، سعودی عرب
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض: سعودی عرب نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت، اشتعال انگیزی کو مسترد کردیا۔
تہران سے ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ عالمی قانون کے تحت جنگ روکنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی جنگ سے بچاؤ کے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں سے خطے میں عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کی دھمکیاں اور نفسیاتی حربے خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کےلیے ہیں، اسلامی ممالک کا اتحاد خطے میں پائیدار سلامتی، استحکام اور امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
اس موقع پر دوران گفتگو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران کے خلاف کسی بھی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔