Islam Times:
2026-06-02@22:42:11 GMT

امریکی خطرے کے خلاف ایران کے علاقائی اتحادیوں پر ایک نظر

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

امریکی خطرے کے خلاف ایران کے علاقائی اتحادیوں پر ایک نظر

اسلام ٹائمز: امریکن انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تناؤ کسی تصادم کا باعث بنتا ہے تو یہ ایک ہی حملے سے آگے بڑھ جائے گا اور خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف ایرانی انتقامی کارروائیوں میں اضافے کا خطرہ مول لے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازعہ کے کثیر محاذ علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی اقدام ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر لے گا اور ایران کے سرکاری مؤقف کے مطابق اس طرح کا اقدام ملک کو امریکہ اور خطے میں اس کے شراکت داروں بشمول امریکی اور اسرائیلی اڈوں کے خلاف سخت ردعمل دینے پر مجبور کر دے گا۔ خصوصی رپورٹ:

ایران کے علاقائی اتحادیوں نے کسی بھی امریکی خطرے کے خلاف ایران کی حمایت میں اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ تسنیم خبررساں ادارے کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی حکومت کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان، اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی اتحادیوں کی پوزیشن تیزی سے واضح ہو رہی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی اس کی جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ایک وسیع، کثیر الجہتی محاذ آرائی کے دروازے کھول دے گی۔

ایران کی حمایت میں مزاحمتی محور کا واضح موقف:
1۔ اس تناظر میں، خطے میں مزاحمتی تحریکوں کی جانب سے بیک وقت جاری کیے جانے والے سیاسی اور فوجی پیغامات کشیدگی کے کسی بھی ممکنہ اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی صیہونی فوجی مہم جوئی کی قیمت پورے خطے کو متاثر کرے گی اور اس کے امریکی صیہونی محور کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سلسلے میں لبنانی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ ایران اور امام خامنہ ای کے خلاف کسی بھی خطرے کے پیش نظر خاموش نہیں رہے گی اور زمینی پیش رفت کی بنیاد پر ایران کی حمایت کی شکل، وقت اور قسم کا انتخاب کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

2۔ یمن میں، ایران کی حمایت کا اعلان میدانی پیغامات کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے، جس میں یمنی مسلح افواج کی طرف سے انتباہی ویڈیو کا اجراء بھی شامل ہے۔ جہاں یمنیوں نے حال ہی میں خلیج عدن میں ایک برطانوی ٹینکر کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کی اور خبردار کیا کہ اگر حالات کی ضرورت پڑی تو وہ امریکی صہیونی دشمن اور ان کے اتحادیوں کے خلاف اپنی بحری کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بحری ناکہ بندی کی توسیع اور امریکی صیہونی محور کے خلاف یمن کی میزائل صلاحیتوں کی ترقی کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور ایران کے خلاف کسی بھی جارھیت کی صورت میں دشمن کے خلاف کسی بھی علاقائی ڈیٹرنس مساوات میں شرکت کے لیے صنعا کی تیاری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

3۔ عراق میں، حزب اللہ بریگیڈز کے سیکرٹری جنرل ابو حسین الحمیدوی نے دو روز قبل عراقی مزاحمتی قوت کی پوری طاقت کے ساتھ ایران کے لیے ثابت قدم حمایت پر زور دیا اور امریکہ کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی اقدام کبھی بھی آسان نہیں ہوگا اور اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ عراق میں سید الشہداء بریگیڈز نے بھی ایران کی حمایت کا اعلان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عراقی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے بند ہیں۔

مزاحمت کا پورا محور صرف ایران ہی نہیں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑا ہو گا:
بین الاقوامی تعلقات کے ایک لبنانی محقق محمد حسین سویدان نے المیادین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی حمایت کے لیے حزب اللہ کا میدان میں آنا امریکہ کے لیے اس ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کی قیمت میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے مزاحمتی قوتوں کی مکمل حمایت کا مطلب دراصل ایک ایسے منصوبے کا دفاع کرنا ہے جو تسلط اور استعمار کو مسترد کرتا ہے اور مزاحمت کے محور کے تمام ارکان ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو اس پورے محور کو نشانہ بنانا اور اس کے مطابق اس سے نمٹنا سمجھتے ہیں، شیخ نعیم قاسم کی حالیہ تقریر نے تمام راستے کھلے رکھے ہیں اور حزب اللہ کے منظرنامے ایران کے خلاف کسی بھی امریکی اور صیہونی تحریک کی سطح کے لحاظ سے مختلف ہوں گے۔ یہاں کوئی بھی تصادم صرف ایران تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام مزاحمتی قوتوں کو ممکنہ طور پر امریکی صیہونی دشمن کے ساتھ اس تصادم میں بھرپور شرکت کی طرف دھکیل دے گا۔

ایران کی حمایت فرقہ وارانہ حدود سے بالاتر ہے:
ایک عراقی مصنف اور صحافی ظہور موسیٰ نے کہا ہے کہ عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے سکریٹری جنرل کا ایران کے لیے باضابطہ حمایت کا اعلان خطے میں تنازعات کی سطح میں ایک جدید تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو فرقہ وارانہ حدود سے باہر ہے اور اس میں تمام عراقی شامل ہیں۔ ابو حسین الحمیدوی کے الفاظ صرف شیعوں سے مخاطب نہیں تھے، بلکہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی چار دہائیوں تک مسلم نظریات کے لیے حمایت کا حوالہ ہیں، عراقی حزب اللہ بریگیڈ کے سکریٹری جنرل کا بیان، جیسا کہ اس کے مواد سے واضح ہے، دفاعی جہاد کے لیے فتویٰ جاری کرنے کا امکان فراہم کرتا ہے۔

جہاں وہ ایران کو تمام مظلوموں کی حمایت کا اڈہ سمجھتا ہے اور اس لیے اس ملک کے خلاف کشیدگی میں اضافے کا مطلب تصادم کا دائرہ وسیع کرنا ہے، یہ پیش رفت ایک اعلیٰ تصادم کے لیے تیاری کی نشاندہی کرتی ہے جو کہ سیاسی حمایت سے لے کر میدان میں براہ راست شرکت تک داخلی عراقی اتحاد کے مختلف درجات کے ذریعے شدت اختیار کرے گی۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عراق کا استحکام اور اقتصادی ترقی، سیاسی اور سلامتی کی کامیابی اس اسٹریٹجک گہرائی سے منسلک ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ دہائیوں میں فراہم کی ہے۔

یمن، ایران کی حمایت کی مساوات کے مرکز میں ہے:
جہاں تک یمن کا تعلق ہے، انصار اللہ تحریک کے سیاسی بیورو کے ایک سرکردہ رکن محمد الفرح نے ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو اس کی سرحدوں اور قومی جغرافیہ سے باہر ایک فریم ورک میں رکھا اور اسے پوری اسلامی دنیا کے خلاف جارحیت اور خودمختاری، حکومتوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اس سلسلے میں محمد الفرح نے تاکید کی کہ ایران کو نشانہ بنانے کو کشیدگی میں نہ ختم ہونے والے اضافے کی پیش کش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے تک پھیل جائیں گے۔

انصار اللہ کے اس رکن نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران کے خلاف دشمنوں کی طرف سے پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کی صورت میں یمن کبھی بھی غیر جانبدار نہیں رہے گا کہا: یمن جہاد اور مزاحمت کے محور کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے اور دشمنوں کے خلاف آئندہ دور میں کسی بھی محاذ آرائی میں شرکت کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایران اور اس کے اتحادیوں کی طاقت پر بھروسہ ہے کہ وہ دشمنوں کی جارحیت کا فیصلہ کن اور حد کے بغیر جواب دیں گے اور ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی محاذ آرائی محض علامتی نہیں ہو گی۔ بلکہ یہ صیہونی حکومت، امریکی اڈوں اور جنگی جہازوں اور ملکی مفادات اور سمندری راستوں کو کچلنے والے انداز میں نشانہ بنائے گا اور یہ عمل دشمن کے خلاف مزاحمت کے دردناک آپشن کے دائرے میں ہے جو امریکی تسلط کے ٹوٹنے کا باعث بنے گا۔

ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی امریکا اور اسرائیل کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی:
لیکن ایک وسیع تر تجزیے میں، مغربی اور علاقائی تحقیقی مراکز خبردار کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی اقدام گزرنے والا واقعہ نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہو گا جو خطے کے نقشے کو مکمل طور پر دوبارہ کھینچ لے گا۔ امریکن انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تناؤ کسی تصادم کا باعث بنتا ہے تو یہ ایک ہی حملے سے آگے بڑھ جائے گا اور خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف ایرانی انتقامی کارروائیوں میں اضافے کا خطرہ مول لے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازعہ کے کثیر محاذ علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

عبرانی ویب سائٹ Ynet نے بدلے میں کہا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی ممکنہ فوجی کارروائی خطے میں وسیع تر عدم استحکام کا باعث بنے گی، جس میں تنازعات میں اضافہ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اور نئے علاقائی کھلاڑیوں کے داخلے کے ساتھ سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ کے نقشے کو دوبارہ ترتیب دینا اور ردعمل کی ایک وسیع رینج شامل ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی اقدام ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر لے گا اور ایران کے سرکاری مؤقف کے مطابق اس طرح کا اقدام ملک کو امریکہ اور خطے میں اس کے شراکت داروں بشمول امریکی اور اسرائیلی اڈوں کے خلاف سخت ردعمل دینے پر مجبور کر دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے خلاف کسی بھی جارحیت ایران کے خلاف کسی بھی امریکی اور اسرائیلی ایران کی حمایت امریکی صیہونی کے خلاف ایران خبردار کیا کہ اس بات پر زور اور ایران کے اور خطے میں اور اس کے کا اعلان حمایت کا حزب اللہ اضافے کا کے مطابق کا باعث کرتا ہے کے ساتھ کہا کہ گا اور ہیں کہ ہے اور کے لیے کی طرف

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان