Islam Times:
2026-07-24@10:33:25 GMT

امریکی خطرے کے خلاف ایران کے علاقائی اتحادیوں پر ایک نظر

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

امریکی خطرے کے خلاف ایران کے علاقائی اتحادیوں پر ایک نظر

اسلام ٹائمز: امریکن انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تناؤ کسی تصادم کا باعث بنتا ہے تو یہ ایک ہی حملے سے آگے بڑھ جائے گا اور خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف ایرانی انتقامی کارروائیوں میں اضافے کا خطرہ مول لے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازعہ کے کثیر محاذ علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی اقدام ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر لے گا اور ایران کے سرکاری مؤقف کے مطابق اس طرح کا اقدام ملک کو امریکہ اور خطے میں اس کے شراکت داروں بشمول امریکی اور اسرائیلی اڈوں کے خلاف سخت ردعمل دینے پر مجبور کر دے گا۔ خصوصی رپورٹ:

ایران کے علاقائی اتحادیوں نے کسی بھی امریکی خطرے کے خلاف ایران کی حمایت میں اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ تسنیم خبررساں ادارے کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی حکومت کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان، اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی اتحادیوں کی پوزیشن تیزی سے واضح ہو رہی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی اس کی جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ایک وسیع، کثیر الجہتی محاذ آرائی کے دروازے کھول دے گی۔

ایران کی حمایت میں مزاحمتی محور کا واضح موقف:
1۔ اس تناظر میں، خطے میں مزاحمتی تحریکوں کی جانب سے بیک وقت جاری کیے جانے والے سیاسی اور فوجی پیغامات کشیدگی کے کسی بھی ممکنہ اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی صیہونی فوجی مہم جوئی کی قیمت پورے خطے کو متاثر کرے گی اور اس کے امریکی صیہونی محور کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سلسلے میں لبنانی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ ایران اور امام خامنہ ای کے خلاف کسی بھی خطرے کے پیش نظر خاموش نہیں رہے گی اور زمینی پیش رفت کی بنیاد پر ایران کی حمایت کی شکل، وقت اور قسم کا انتخاب کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

2۔ یمن میں، ایران کی حمایت کا اعلان میدانی پیغامات کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے، جس میں یمنی مسلح افواج کی طرف سے انتباہی ویڈیو کا اجراء بھی شامل ہے۔ جہاں یمنیوں نے حال ہی میں خلیج عدن میں ایک برطانوی ٹینکر کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کی اور خبردار کیا کہ اگر حالات کی ضرورت پڑی تو وہ امریکی صہیونی دشمن اور ان کے اتحادیوں کے خلاف اپنی بحری کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بحری ناکہ بندی کی توسیع اور امریکی صیہونی محور کے خلاف یمن کی میزائل صلاحیتوں کی ترقی کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور ایران کے خلاف کسی بھی جارھیت کی صورت میں دشمن کے خلاف کسی بھی علاقائی ڈیٹرنس مساوات میں شرکت کے لیے صنعا کی تیاری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

3۔ عراق میں، حزب اللہ بریگیڈز کے سیکرٹری جنرل ابو حسین الحمیدوی نے دو روز قبل عراقی مزاحمتی قوت کی پوری طاقت کے ساتھ ایران کے لیے ثابت قدم حمایت پر زور دیا اور امریکہ کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی اقدام کبھی بھی آسان نہیں ہوگا اور اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ عراق میں سید الشہداء بریگیڈز نے بھی ایران کی حمایت کا اعلان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عراقی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے بند ہیں۔

مزاحمت کا پورا محور صرف ایران ہی نہیں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑا ہو گا:
بین الاقوامی تعلقات کے ایک لبنانی محقق محمد حسین سویدان نے المیادین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی حمایت کے لیے حزب اللہ کا میدان میں آنا امریکہ کے لیے اس ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کی قیمت میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے مزاحمتی قوتوں کی مکمل حمایت کا مطلب دراصل ایک ایسے منصوبے کا دفاع کرنا ہے جو تسلط اور استعمار کو مسترد کرتا ہے اور مزاحمت کے محور کے تمام ارکان ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو اس پورے محور کو نشانہ بنانا اور اس کے مطابق اس سے نمٹنا سمجھتے ہیں، شیخ نعیم قاسم کی حالیہ تقریر نے تمام راستے کھلے رکھے ہیں اور حزب اللہ کے منظرنامے ایران کے خلاف کسی بھی امریکی اور صیہونی تحریک کی سطح کے لحاظ سے مختلف ہوں گے۔ یہاں کوئی بھی تصادم صرف ایران تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام مزاحمتی قوتوں کو ممکنہ طور پر امریکی صیہونی دشمن کے ساتھ اس تصادم میں بھرپور شرکت کی طرف دھکیل دے گا۔

ایران کی حمایت فرقہ وارانہ حدود سے بالاتر ہے:
ایک عراقی مصنف اور صحافی ظہور موسیٰ نے کہا ہے کہ عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے سکریٹری جنرل کا ایران کے لیے باضابطہ حمایت کا اعلان خطے میں تنازعات کی سطح میں ایک جدید تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو فرقہ وارانہ حدود سے باہر ہے اور اس میں تمام عراقی شامل ہیں۔ ابو حسین الحمیدوی کے الفاظ صرف شیعوں سے مخاطب نہیں تھے، بلکہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی چار دہائیوں تک مسلم نظریات کے لیے حمایت کا حوالہ ہیں، عراقی حزب اللہ بریگیڈ کے سکریٹری جنرل کا بیان، جیسا کہ اس کے مواد سے واضح ہے، دفاعی جہاد کے لیے فتویٰ جاری کرنے کا امکان فراہم کرتا ہے۔

جہاں وہ ایران کو تمام مظلوموں کی حمایت کا اڈہ سمجھتا ہے اور اس لیے اس ملک کے خلاف کشیدگی میں اضافے کا مطلب تصادم کا دائرہ وسیع کرنا ہے، یہ پیش رفت ایک اعلیٰ تصادم کے لیے تیاری کی نشاندہی کرتی ہے جو کہ سیاسی حمایت سے لے کر میدان میں براہ راست شرکت تک داخلی عراقی اتحاد کے مختلف درجات کے ذریعے شدت اختیار کرے گی۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عراق کا استحکام اور اقتصادی ترقی، سیاسی اور سلامتی کی کامیابی اس اسٹریٹجک گہرائی سے منسلک ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ دہائیوں میں فراہم کی ہے۔

یمن، ایران کی حمایت کی مساوات کے مرکز میں ہے:
جہاں تک یمن کا تعلق ہے، انصار اللہ تحریک کے سیاسی بیورو کے ایک سرکردہ رکن محمد الفرح نے ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو اس کی سرحدوں اور قومی جغرافیہ سے باہر ایک فریم ورک میں رکھا اور اسے پوری اسلامی دنیا کے خلاف جارحیت اور خودمختاری، حکومتوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اس سلسلے میں محمد الفرح نے تاکید کی کہ ایران کو نشانہ بنانے کو کشیدگی میں نہ ختم ہونے والے اضافے کی پیش کش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے تک پھیل جائیں گے۔

انصار اللہ کے اس رکن نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران کے خلاف دشمنوں کی طرف سے پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کی صورت میں یمن کبھی بھی غیر جانبدار نہیں رہے گا کہا: یمن جہاد اور مزاحمت کے محور کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے اور دشمنوں کے خلاف آئندہ دور میں کسی بھی محاذ آرائی میں شرکت کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایران اور اس کے اتحادیوں کی طاقت پر بھروسہ ہے کہ وہ دشمنوں کی جارحیت کا فیصلہ کن اور حد کے بغیر جواب دیں گے اور ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی محاذ آرائی محض علامتی نہیں ہو گی۔ بلکہ یہ صیہونی حکومت، امریکی اڈوں اور جنگی جہازوں اور ملکی مفادات اور سمندری راستوں کو کچلنے والے انداز میں نشانہ بنائے گا اور یہ عمل دشمن کے خلاف مزاحمت کے دردناک آپشن کے دائرے میں ہے جو امریکی تسلط کے ٹوٹنے کا باعث بنے گا۔

ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی امریکا اور اسرائیل کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی:
لیکن ایک وسیع تر تجزیے میں، مغربی اور علاقائی تحقیقی مراکز خبردار کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی اقدام گزرنے والا واقعہ نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہو گا جو خطے کے نقشے کو مکمل طور پر دوبارہ کھینچ لے گا۔ امریکن انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تناؤ کسی تصادم کا باعث بنتا ہے تو یہ ایک ہی حملے سے آگے بڑھ جائے گا اور خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف ایرانی انتقامی کارروائیوں میں اضافے کا خطرہ مول لے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازعہ کے کثیر محاذ علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

عبرانی ویب سائٹ Ynet نے بدلے میں کہا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی ممکنہ فوجی کارروائی خطے میں وسیع تر عدم استحکام کا باعث بنے گی، جس میں تنازعات میں اضافہ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اور نئے علاقائی کھلاڑیوں کے داخلے کے ساتھ سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ کے نقشے کو دوبارہ ترتیب دینا اور ردعمل کی ایک وسیع رینج شامل ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی اقدام ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر لے گا اور ایران کے سرکاری مؤقف کے مطابق اس طرح کا اقدام ملک کو امریکہ اور خطے میں اس کے شراکت داروں بشمول امریکی اور اسرائیلی اڈوں کے خلاف سخت ردعمل دینے پر مجبور کر دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے خلاف کسی بھی جارحیت ایران کے خلاف کسی بھی امریکی اور اسرائیلی ایران کی حمایت امریکی صیہونی کے خلاف ایران خبردار کیا کہ اس بات پر زور اور ایران کے اور خطے میں اور اس کے کا اعلان حمایت کا حزب اللہ اضافے کا کے مطابق کا باعث کرتا ہے کے ساتھ کہا کہ گا اور ہیں کہ ہے اور کے لیے کی طرف

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی