ایران سے کشیدگی کے دوران فوجی مشق؛ مشرق وسطیٰ میں امریکی لڑاکا طیاروں کی گھن گرج
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
امریکی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کثیر روزہ جنگی تیاریاں اور فوجی مشق کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کا مقصد تیزی سے تعیناتی اور فوجی آپریشنز کی استعداد کا جائزہ لینا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فضائیہ کی یہ فوجی مشق نفری اور آلات کی فوری نقل و حرکت، ہنگامی مقامات پر تقسیم شدہ آپریشنز، اور وسیع علاقوں میں مشترکہ بین الاقوامی کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیرک فرانس نے مزید بتایا کہ یہ فوجی مشق ہمارے لڑاکا طیاروں کے عملے کی استعداد کو برقرار رکھنے اور اس عزم کی تصدیق کرنے کے لیے ہے کہ فضائی قوت جہاں اور جب ضرورت ہو دستیاب رہے گی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ فوجی مشق کے دوران چھوٹے اور مؤثر سپورٹ پیکجز کے ساتھ متعدد ہنگامی مقامات پر ٹیمیں تعینات کی جائیں گی تاکہ فوری سیٹ اپ، لانچ اور بازیابی کے طریقہ کار کی جانچ کی جا سکے۔
ان کے بقول تمام سرگرمیاں میزبان ملک کی منظوری اور سول و عسکری ہوا بازی حکام کے تعاون سے انجام دی جائیں گی۔
یہ مشق ایسے وقت ہو رہی ہے جب واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے اور پیر کے روز کیریئر اسٹریک گروپ بھی تعینات کی گئی۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کوپھانسی دینے کے خدشات پر کہا تھا کہ اگر ایسا تو امریکی فوج ایران پر بڑا حملہ کردے گی۔
تاہم بعد میں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے مظاہرین کو پھانسی دینے کا عمل روک دیا ہے اس لیے اب حملہ نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ ایرانی فوج کے چیف نے کسی بھی فوجی مہم پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری نگاہیں ہدف اور انگلیاں ٹرگر پر ہیں۔ بس سپریم لیڈر آیت اللہ کے اشارے کے منتظر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوجی مشق
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔