حماس کے غیرمسلح ہونے سے پہلے ہم غزہ کی تعمیرنو شروع نہیں کریں گے: امریکی عہدیدار
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک امریکی عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ معاہدے کی تمام تر تفصیلات اور شقوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے پیر کے روز “العربیہ ٹی وی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم غزہ کی پٹی میں حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنے سے پہلے تعمیرِ نو کا عمل شروع نہیں کریں گے”۔
روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے بیان دیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے اس بات پر مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ غزہ کی دوبارہ تعمیر اسی صورت شروع ہوگی جب حماس تنظیم کو غیر مسلح کر کے اسے ختم کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی “چینل 12” کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن غزہ میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی حمایت کرے گا تاکہ اس کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
عہدے دار نے مزید کہا کہ “رفح گزرگاہ کو امریکہ، مصر اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی ہم آہنگی کے ذریعے کھولا جائے گا، جب تک کہ ایک ایسی فلسطینی پولیس فورس تشکیل نہ پا جائے جو خود مختار طور پر سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہو”۔
اس سے قبل پیر کے روز اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں موجود آخری یرغمالی “ران غفیلی” کی باقیات حاصل کر لی تھیں، جس کے ساتھ ہی حماس تنظیم کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا اور اب رفح گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کا انتظار ہے۔
ادھر حماس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ تبادلے کا راستہ اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی کمیٹی کے کام میں سہولت کاری اور اسے کامیاب بنانے کے لیے اپنا عزم برقرار رکھے گی۔ جبکہ بنیامین نیتن یاہو نے زور دیا ہے کہ اگلا مرحلہ حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنا ہے۔
اسی حوالے سے ٹرمپ نے حماس تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر مسلح ہونے کی پابندی کرے، انہوں نے “ایکسیوس” ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “حماس تنظیم کو اپنے وعدے کے مطابق اسلحہ چھوڑ دینا چاہیے”۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ تنظیم نے غزہ میں آخری یرغمالی کی لاش کا سراغ لگانے میں مدد کی، اور اشارہ کیا کہ لاش کی تلاش اور شناخت کا عمل “انتہائی مشکل” تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ باقیات کی واپسی کے بعد وہ رفح گزرگاہ کو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے کھولنے کی اجازت دے گا، جس کے لیے “جامع اسرائیلی تفتشی نظام” نافذ کیا جائے گا۔ یہ گزرگاہ محصور اور تباہ حال غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل کے لیے ایک بنیادی نکتہ ہے اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اسے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حماس تنظیم کو کے مطابق غزہ کی کے لیے
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔