data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک امریکی عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ معاہدے کی تمام تر تفصیلات اور شقوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے پیر کے روز “العربیہ ٹی وی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم غزہ کی پٹی میں حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنے سے پہلے تعمیرِ نو کا عمل شروع نہیں کریں گے”۔

روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے بیان دیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے اس بات پر مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ غزہ کی دوبارہ تعمیر اسی صورت شروع ہوگی جب حماس تنظیم کو غیر مسلح کر کے اسے ختم کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی “چینل 12” کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن غزہ میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی حمایت کرے گا تاکہ اس کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

عہدے دار نے مزید کہا کہ “رفح گزرگاہ کو امریکہ، مصر اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی ہم آہنگی کے ذریعے کھولا جائے گا، جب تک کہ ایک ایسی فلسطینی پولیس فورس تشکیل نہ پا جائے جو خود مختار طور پر سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہو”۔

اس سے قبل پیر کے روز اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں موجود آخری یرغمالی “ران غفیلی” کی باقیات حاصل کر لی تھیں، جس کے ساتھ ہی حماس تنظیم کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا اور اب رفح گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کا انتظار ہے۔

ادھر حماس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ تبادلے کا راستہ اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی کمیٹی کے کام میں سہولت کاری اور اسے کامیاب بنانے کے لیے اپنا عزم برقرار رکھے گی۔ جبکہ بنیامین نیتن یاہو نے زور دیا ہے کہ اگلا مرحلہ حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنا ہے۔

اسی حوالے سے ٹرمپ نے حماس تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر مسلح ہونے کی پابندی کرے، انہوں نے “ایکسیوس” ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “حماس تنظیم کو اپنے وعدے کے مطابق اسلحہ چھوڑ دینا چاہیے”۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ تنظیم نے غزہ میں آخری یرغمالی کی لاش کا سراغ لگانے میں مدد کی، اور اشارہ کیا کہ لاش کی تلاش اور شناخت کا عمل “انتہائی مشکل” تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ باقیات کی واپسی کے بعد وہ رفح گزرگاہ کو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے کھولنے کی اجازت دے گا، جس کے لیے “جامع اسرائیلی تفتشی نظام” نافذ کیا جائے گا۔ یہ گزرگاہ محصور اور تباہ حال غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل کے لیے ایک بنیادی نکتہ ہے اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اسے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حماس تنظیم کو کے مطابق غزہ کی کے لیے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر