ریسکیو 1122 میں نیا فائر انسپکٹوریٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ، ہر ضلع میںسٹروک مینجمنٹ سنٹر قائم کرنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ + نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرصدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ کے لئے اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے ویڈیو لنک پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے خطاب کیا اور اہم احکامات جاری کیے۔ 9 ڈویژن کے 1157مقامات پر واٹر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں ریسکیو 1122میں نیا فائر انسپکٹوریٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیااور آتشزدگی کے سدباب کیلئے جدید ترین ہائی ایکسپنشن فوم جنریٹرکے استعمال کا بھی فیصلہ کیا۔ بڑی عمارتوں میں سموگ ڈی ٹیکٹر، سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دیا۔ فرسٹ ایڈ اور آکسیجن سلنڈر بھی بڑی کمرشل عمارتوں میں لازمی قرار دیا۔ کیمیکل،گتا،کپڑا اور سلنڈر وغیرہ کی مارکیٹ میں آتشزدگی سے نمٹنے کیلئے سپیشلائزڈ ٹریننگ کا فیصلہ کیا۔ ہر ملٹی سٹوری بلڈنگ میں واٹر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کا حکم دیا۔ ایمرجنسی انخلاء کیلئے ہر عمارت میں بیرونی حصے میں ہوادار سڑھیاں لازمی قرار دیا۔ واٹر ہائیڈرنٹ کے نرخ تین ماہ کیلئے لاک کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ سمیت گنجان مارکیٹوں میں تجاوزات اوررکاوٹیں ختم کرنے اور تمام اضلاع میں ہر ماہ آتشزدگی کی تیاری کیلئے فرضی مشقیں کرنے کی ہدایت بھی کی۔ نجی اور سرکاری بلڈنگ میں آگ بجھانے والے آلات کی موجودگی لازمی قرار، ایکسپائری چیک کرنے کی ہدایت کی۔ ہدایات پر عمل نہ کرنے پر بلڈنگ سیل اور مالکان کے خلاف کارروائی اور فائر سیفٹی اقدامات پر فوری عملدر آمد شروع کرنے کی ہدایت کی۔ فائر سیفٹی ڈرل کا باقاعدہ انعقاد کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے کے پی آئیز میں شامل ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ پر افسوس ہے، دکھ کی گھڑی میں حکومت سندھ،کراچی کے عوام اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ گل پلازہ سانحہ پر پنجاب ہر قسم کی معاونت اور تعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔ لاہور میں آتشزدگی کے وقت ہوٹل کی 25 منزلہ عمارت میں 300 افراد موجود تھے۔ سب کو شاباش دیتی ہوں۔ ہوٹل کی عمارت میں آتشزدگی کے سدباب اور لوگوں کے بروقت انخلاء کے آپریشن کی سیف سٹی کیمرے سے مانیٹرنگ کی۔ منسٹر انرجی اور چیف سیکرٹری سمیت دیگر افسران بھی فوری طور پر پہنچ گئے۔ آتشزدگی واقعہ میں پوری ٹیم نے فلڈ آپریشن کی طرح ایک یونٹ بن کر کام کیا۔ ریسکیو 1122بہت اہم ادارہ ہے، درکار آلات، کپیسٹی بلڈنگ اور ٹریننگ کیلئے وسائل مہیا کریں گے۔ ہوٹل میں تباہی قریبی فائر ہائیڈرنٹ آپریشنل ہونے کی وجہ سے ٹل گئی۔ آگ بجانے کیلئے ہائی ایکسپنشن فوم جنریٹرجیسی جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل مالکان سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کو زرتلافی ایک کروڑ روپے فی کس زرتلافی ادا کریں۔ ریسکیو اداروں کی بروقت کارروائی قابل تحسین ہے، رسپانس ٹائم اچھا تھا، پورے پنجاب میں یہی رسپانس ٹائم ہونا چاہیے۔ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بلڈنگ کی تعمیر کے دوران سیفٹی ریگولیشن کا نفاذ یقینی بنائیں۔ ہر عمارت میں فائر سیفٹی آلات موجود بلکہ فنکشنل بھی ہوں۔ بدقسمتی سے جنریٹر، تیل اور پلاسٹک وغیرہ اور دیگر آتشزدگی مٹیریل ایک ہی جگہ سٹور ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مارکٹیوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر بالخصوص تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر انسپکشن کی تصاویر اور ویڈیو ارسال کریں، کمرشل عمارتوں میں ایک ماہ میں فائر ہائیڈرنٹ کی تنصیب یقینی بنائیں۔ سہ منزلہ عمارتوں کے بیسمنٹ میں کے چند بوائلر اور آتشزدگی مواد سٹورکرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بوائلر پھٹنے سے مزدور مرتا ہے تو گویا خاندان مرتا ہے، کسی بھی مزدور کا جلنا یا مرنا قطعا ًبرداشت نہیں۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں سلنڈر انسپکشن کی جائے، غیر معیاری سلنڈر بنانے اور بیچنے والے ادارے سیل کیے جائیں۔ ہر عمارت میں آٹو میٹک سپرینکل سسٹم ہونا چا ہیے۔ ویلڈنگ بھی محفوظ جگہ پر کی جائے۔ مریم نواز نے ہر ضلع میں سٹروک مینجمنٹ سنٹر قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں ہر ڈی ایچ کیو میں نیورالوجسٹ اور پیڈزنیورالوجسٹ تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ہر ضلع میں ایک ڈاکٹر اورنرس کو فوری طور پر تین ما ہ کی سٹروک مینجمنٹ ٹریننگ شروع کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ فوری طور پر سٹروک پیشنٹ کیلئے ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ شروع کرنے کا حکم دیا۔ ضلعی ہسپتالوں کے ڈاکٹرفالج کے مریض کے فوری علا ج کیلئے سپیشلسٹ اورکنسلٹنٹ کے ٹیلی فونک رابطہ کرسکیں گے۔ سٹروک مینجمنٹ سنٹر کیلئے نرسز ٹریننگ پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی اور ریسکیورز سٹروک مینجمنٹ ٹریننگ کرانے کیلئے اقدامات کا حکم دیا۔ مریم نواز نے فالج کے علاج کیلئے عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ فالج کے علاج کیلئے گولڈن آورز کی اہمیت مسلمہ ہے، آگاہی مہم خود لیڈ کروں گی۔ پنجاب کے ہر چلڈرن ہسپتال میں سٹروک مینجمنٹ سینٹر بنائیں گے۔ چاہتے ہیں کہ کسی مریض کو علاج کیلئے بڑے شہر نہ جانا پڑے۔ اجلاس میں پمز کے نیورالوجسٹ ڈاکٹر قاسم بشیر نے سٹروک مینجمنٹ پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی وزراء کی اے آئی ٹریننگ سیشن میں خود شرکت کرکے لیڈ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور وزراء نے آفیشل ورکشاپ ’’ایمپاورنگ پنجاب ود اے آئی‘‘ ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔ ٹریننگ پروگرام کے دوران خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے پنجاب کے سکولوں میں اے آئی استعمال کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ ٹریننگ پروگرام میں پنجاب میں گوگل ٹیک ویلی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایڈوائزری بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹریننگ پروگرام میں آفیشل ورکشاپ ’’ایمپاورنگ پنجاب ود اے آئی‘‘ کا باقاعدہ آغاز منسٹر کی حاضری سے کیا گیا۔ ٹریننگ سیشن میں پنجاب کابینہ کے ارکان کو Geminiکے مفید استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر گورنس اور پالیسی فریم ورک کی تشکیل کے اے آئی کے استعمال سے آگاہ کیا گیا۔ مریم نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سوچ اور کام کے طریقہ کار کو بدل سکتی ہے۔ اصلاحات اور پالیسی سازی میں اے آئی کی معاونت ناگزیر ہے۔ اے آئی ٹولز کاذمہ داری سے استعمال مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ گوگل فار ایجوکیشن کے ماہرین نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب میں ٹیک ویلی گوگل فار ایجوکیشن کے پلیٹ فارم پر 3 ہزار اساتذہ کی ماسٹر ٹریننگ کا آغاز کیا جائے گا۔ پنجاب میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں تین لاکھ سے زائد سٹوڈنٹس آئی ڈی قائم ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کرنے کی ہدایت کی ٹریننگ پروگرام سٹروک مینجمنٹ مریم نواز نے میں ا تشزدگی ا تشزدگی کے لازمی قرار کا حکم دیا فیصلہ کیا اجلاس میں نے کہا کہ کا فیصلہ کیا گیا کرنے کا اے ا ئی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔