Islam Times:
2026-07-24@03:44:55 GMT

بھارت میں ہم آہنگی کی علامتیں بھی بی جے پی کے نشانے پر

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

بھارت میں ہم آہنگی کی علامتیں بھی بی جے پی کے نشانے پر

اسلام ٹائمز۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھے ہوں، حالیہ برسوں میں بھارت بھر میں بلڈوزر کارروائیاں ایک انتظامی عمل کے بجائے اجتماعی سزا کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید کا معاملہ ہو یا مہاراشٹر کے مالوان میں ایک نابالغ لڑکے کے واقعے کے بعد اس کے اہل خانہ کے گھر کی مسماری، ان مثالوں نے قانون کی حکمرانی اور قدرتی انصاف کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی

بھارت کی اتراکھنڈ کے سیاحتی شہر مسوری میں صوفی شاعر اور انسانی مساوات کے پیام رساں بابا بلھے شاہ کے تقریباً ایک صدی قدیم مزار میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں حالیہ توڑ پھوڑ نے محض ایک مذہبی مقام کی بے حرمتی کا مسئلہ نہیں اٹھایا بلکہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، آئینی قدروں اور ریاستی رویّوں پر ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ثبت کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بھارت کے مختلف حصوں میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں سے وابستہ عبادت گاہوں، مزارات، مدارس اور رہائشی املاک کو نشانہ بنانے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔

اس واقعے پر جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی کا سخت ردِعمل محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک وسیع تر قومی تشویش کی ترجمانی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ مذہبی ہم آہنگی کی علامتوں کو نشانہ بنانا غربت، بے روزگاری اور نوجوانوں کے تاریک مستقبل جیسے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا آسان طریقہ بن چکا ہے، زمینی حقائق سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب معیشت دباؤ میں ہو، روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہوں اور سماجی بے چینی بڑھ رہی ہو، تو کیا نفرت کی سیاست حکمرانی کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔

بابا بلھے شاہ کا مزار ہو یا بھارت کے دیگر حصوں میں مساجد اور مزارات، ان مقامات کی تاریخی اور روحانی حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جو صدیوں سے مذہب، ذات اور زبان سے بالاتر ہو کر انسان کو انسان سے جوڑتے آئے ہیں۔ ان پر حملہ دراصل اس مشترکہ تہذیبی ورثے پر حملہ ہے جسے ہندوستانی معاشرہ اپنی پہچان سمجھتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھے ہوں۔ حالیہ برسوں میں بھارت بھر میں بلڈوزر کارروائیاں ایک انتظامی عمل کے بجائے اجتماعی سزا کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید کا معاملہ ہو یا مہاراشٹر کے مالوان میں ایک نابالغ لڑکے کے واقعے کے بعد اس کے اہل خانہ کے گھر کی مسماری — ان مثالوں نے قانون کی حکمرانی اور قدرتی انصاف کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

محمد جاوید کے گھر کو صرف اس لئے زمین بوس کیا گیا تھا کہ انہوں سوشل میڈیا پر صرف اتنا سوال اٹھایا تھا کہ پیغمبر اسلام (ص) کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ صرف یہ سوال کرنے پر انہیں احتیاطی حراست سمیت آٹھ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، 21 ماہ جیل میں گزارنے پڑے اور ان کے خاندان کو اجتماعی سزا کے طور پر بے گھر کر دیا گیا۔ بعد ازاں عدالتوں نے واضح کیا کہ محمد جاوید کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا اور انہیں مکمل طور پر بری کر دیا گیا، مگر تب تک ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی، سماجی وقار اور خاندانی سکون تباہ ہو چکا تھا۔

محمد جاوید کا معاملہ کوئی استثنا نہیں بلکہ بھارت میں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے ایک خطرناک رجحان کی علامت ہے، جہاں الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی سزا نافذ کر دی جاتی ہے۔ 2017ء کے بعد سے بلڈوزر کے ذریعے گھروں اور کاروباروں کی مسماری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں غیر آئینی، غیر قانونی اور اجتماعی سزا قرار دے چکی ہیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے 2024ء میں واضح کیا کہ بغیر قانونی عمل کے جائیداد کی مسماری آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے، لیکن زمینی سطح پر یہ ہدایات مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید جیسے معاملات اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ موجودہ سیاسی ماحول میں قانون کی حکمرانی کمزور اور اقلیتوں کے لئے انصاف محض ایک وعدہ بنتا جا رہا ہے، جہاں عدالت سے بری ہونا بھی ٹوٹے ہوئے گھر اور اجڑی ہوئی زندگی واپس نہیں لا سکتا۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2024ء میں واضح طور پر کہا تھا کہ بغیر مناسب قانونی عمل کے مسماری غیر آئینی ہے، مگر افسوس کہ عدالتی ہدایات اور زمینی حقیقت کے درمیان خلیج کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کی حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی اسی تلخ حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں 2021ء سے 2025ء کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، معاشی بائیکاٹ، مذہبی مقامات کی مسماری اور دینی تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر منظم انداز میں قدغن لگائی گئی۔ "لو جہاد"، "لینڈ جہاد" اور اب "مزار جہاد" جیسے نعروں کو انتظامی کارروائیوں کے جواز کے طور پر پیش کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ محض قانون کا نہیں بلکہ نیت اور ترجیحات کا بھی ہے۔

جمہوری معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور ریاستی طاقت کو قانون کے دائرے میں رکھے۔ جب مذہبی شناخت کی بنیاد پر کارروائیاں معمول بن جائیں تو یہ صرف ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کے لئے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ آج اگر مزار نشانے پر ہے تو کل کوئی اور علامت ہو سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتیں اشتعال انگیز بیانیوں سے خود کو الگ رکھیں، عدالتی فیصلوں کا احترام کریں اور آئین میں درج مساوات، مذہبی آزادی اور وقارِ انسانی کے اصولوں کو عملی شکل دیں۔ بصورت دیگر، نفرت کی یہ آگ صرف اقلیتوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک کے اجتماعی ضمیر اور جمہوری ڈھانچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ریاستی طاقت محمد جاوید کی مسماری کے خلاف عمل کے جا رہی

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم