Islam Times:
2026-06-02@22:17:58 GMT

بھارت میں ہم آہنگی کی علامتیں بھی بی جے پی کے نشانے پر

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

بھارت میں ہم آہنگی کی علامتیں بھی بی جے پی کے نشانے پر

اسلام ٹائمز۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھے ہوں، حالیہ برسوں میں بھارت بھر میں بلڈوزر کارروائیاں ایک انتظامی عمل کے بجائے اجتماعی سزا کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید کا معاملہ ہو یا مہاراشٹر کے مالوان میں ایک نابالغ لڑکے کے واقعے کے بعد اس کے اہل خانہ کے گھر کی مسماری، ان مثالوں نے قانون کی حکمرانی اور قدرتی انصاف کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی

بھارت کی اتراکھنڈ کے سیاحتی شہر مسوری میں صوفی شاعر اور انسانی مساوات کے پیام رساں بابا بلھے شاہ کے تقریباً ایک صدی قدیم مزار میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں حالیہ توڑ پھوڑ نے محض ایک مذہبی مقام کی بے حرمتی کا مسئلہ نہیں اٹھایا بلکہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، آئینی قدروں اور ریاستی رویّوں پر ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ثبت کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بھارت کے مختلف حصوں میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں سے وابستہ عبادت گاہوں، مزارات، مدارس اور رہائشی املاک کو نشانہ بنانے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔

اس واقعے پر جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی کا سخت ردِعمل محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک وسیع تر قومی تشویش کی ترجمانی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ مذہبی ہم آہنگی کی علامتوں کو نشانہ بنانا غربت، بے روزگاری اور نوجوانوں کے تاریک مستقبل جیسے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا آسان طریقہ بن چکا ہے، زمینی حقائق سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب معیشت دباؤ میں ہو، روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہوں اور سماجی بے چینی بڑھ رہی ہو، تو کیا نفرت کی سیاست حکمرانی کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔

بابا بلھے شاہ کا مزار ہو یا بھارت کے دیگر حصوں میں مساجد اور مزارات، ان مقامات کی تاریخی اور روحانی حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جو صدیوں سے مذہب، ذات اور زبان سے بالاتر ہو کر انسان کو انسان سے جوڑتے آئے ہیں۔ ان پر حملہ دراصل اس مشترکہ تہذیبی ورثے پر حملہ ہے جسے ہندوستانی معاشرہ اپنی پہچان سمجھتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھے ہوں۔ حالیہ برسوں میں بھارت بھر میں بلڈوزر کارروائیاں ایک انتظامی عمل کے بجائے اجتماعی سزا کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید کا معاملہ ہو یا مہاراشٹر کے مالوان میں ایک نابالغ لڑکے کے واقعے کے بعد اس کے اہل خانہ کے گھر کی مسماری — ان مثالوں نے قانون کی حکمرانی اور قدرتی انصاف کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

محمد جاوید کے گھر کو صرف اس لئے زمین بوس کیا گیا تھا کہ انہوں سوشل میڈیا پر صرف اتنا سوال اٹھایا تھا کہ پیغمبر اسلام (ص) کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ صرف یہ سوال کرنے پر انہیں احتیاطی حراست سمیت آٹھ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، 21 ماہ جیل میں گزارنے پڑے اور ان کے خاندان کو اجتماعی سزا کے طور پر بے گھر کر دیا گیا۔ بعد ازاں عدالتوں نے واضح کیا کہ محمد جاوید کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا اور انہیں مکمل طور پر بری کر دیا گیا، مگر تب تک ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی، سماجی وقار اور خاندانی سکون تباہ ہو چکا تھا۔

محمد جاوید کا معاملہ کوئی استثنا نہیں بلکہ بھارت میں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے ایک خطرناک رجحان کی علامت ہے، جہاں الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی سزا نافذ کر دی جاتی ہے۔ 2017ء کے بعد سے بلڈوزر کے ذریعے گھروں اور کاروباروں کی مسماری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں غیر آئینی، غیر قانونی اور اجتماعی سزا قرار دے چکی ہیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے 2024ء میں واضح کیا کہ بغیر قانونی عمل کے جائیداد کی مسماری آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے، لیکن زمینی سطح پر یہ ہدایات مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید جیسے معاملات اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ موجودہ سیاسی ماحول میں قانون کی حکمرانی کمزور اور اقلیتوں کے لئے انصاف محض ایک وعدہ بنتا جا رہا ہے، جہاں عدالت سے بری ہونا بھی ٹوٹے ہوئے گھر اور اجڑی ہوئی زندگی واپس نہیں لا سکتا۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2024ء میں واضح طور پر کہا تھا کہ بغیر مناسب قانونی عمل کے مسماری غیر آئینی ہے، مگر افسوس کہ عدالتی ہدایات اور زمینی حقیقت کے درمیان خلیج کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کی حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی اسی تلخ حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں 2021ء سے 2025ء کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، معاشی بائیکاٹ، مذہبی مقامات کی مسماری اور دینی تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر منظم انداز میں قدغن لگائی گئی۔ "لو جہاد"، "لینڈ جہاد" اور اب "مزار جہاد" جیسے نعروں کو انتظامی کارروائیوں کے جواز کے طور پر پیش کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ محض قانون کا نہیں بلکہ نیت اور ترجیحات کا بھی ہے۔

جمہوری معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور ریاستی طاقت کو قانون کے دائرے میں رکھے۔ جب مذہبی شناخت کی بنیاد پر کارروائیاں معمول بن جائیں تو یہ صرف ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کے لئے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ آج اگر مزار نشانے پر ہے تو کل کوئی اور علامت ہو سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتیں اشتعال انگیز بیانیوں سے خود کو الگ رکھیں، عدالتی فیصلوں کا احترام کریں اور آئین میں درج مساوات، مذہبی آزادی اور وقارِ انسانی کے اصولوں کو عملی شکل دیں۔ بصورت دیگر، نفرت کی یہ آگ صرف اقلیتوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک کے اجتماعی ضمیر اور جمہوری ڈھانچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ریاستی طاقت محمد جاوید کی مسماری کے خلاف عمل کے جا رہی

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی