بھارت میں ہم آہنگی کی علامتیں بھی بی جے پی کے نشانے پر
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھے ہوں، حالیہ برسوں میں بھارت بھر میں بلڈوزر کارروائیاں ایک انتظامی عمل کے بجائے اجتماعی سزا کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید کا معاملہ ہو یا مہاراشٹر کے مالوان میں ایک نابالغ لڑکے کے واقعے کے بعد اس کے اہل خانہ کے گھر کی مسماری، ان مثالوں نے قانون کی حکمرانی اور قدرتی انصاف کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی
بھارت کی اتراکھنڈ کے سیاحتی شہر مسوری میں صوفی شاعر اور انسانی مساوات کے پیام رساں بابا بلھے شاہ کے تقریباً ایک صدی قدیم مزار میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں حالیہ توڑ پھوڑ نے محض ایک مذہبی مقام کی بے حرمتی کا مسئلہ نہیں اٹھایا بلکہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، آئینی قدروں اور ریاستی رویّوں پر ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ثبت کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بھارت کے مختلف حصوں میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں سے وابستہ عبادت گاہوں، مزارات، مدارس اور رہائشی املاک کو نشانہ بنانے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔
اس واقعے پر جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی کا سخت ردِعمل محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک وسیع تر قومی تشویش کی ترجمانی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ مذہبی ہم آہنگی کی علامتوں کو نشانہ بنانا غربت، بے روزگاری اور نوجوانوں کے تاریک مستقبل جیسے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا آسان طریقہ بن چکا ہے، زمینی حقائق سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب معیشت دباؤ میں ہو، روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہوں اور سماجی بے چینی بڑھ رہی ہو، تو کیا نفرت کی سیاست حکمرانی کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔
بابا بلھے شاہ کا مزار ہو یا بھارت کے دیگر حصوں میں مساجد اور مزارات، ان مقامات کی تاریخی اور روحانی حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جو صدیوں سے مذہب، ذات اور زبان سے بالاتر ہو کر انسان کو انسان سے جوڑتے آئے ہیں۔ ان پر حملہ دراصل اس مشترکہ تہذیبی ورثے پر حملہ ہے جسے ہندوستانی معاشرہ اپنی پہچان سمجھتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھے ہوں۔ حالیہ برسوں میں بھارت بھر میں بلڈوزر کارروائیاں ایک انتظامی عمل کے بجائے اجتماعی سزا کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید کا معاملہ ہو یا مہاراشٹر کے مالوان میں ایک نابالغ لڑکے کے واقعے کے بعد اس کے اہل خانہ کے گھر کی مسماری — ان مثالوں نے قانون کی حکمرانی اور قدرتی انصاف کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
محمد جاوید کے گھر کو صرف اس لئے زمین بوس کیا گیا تھا کہ انہوں سوشل میڈیا پر صرف اتنا سوال اٹھایا تھا کہ پیغمبر اسلام (ص) کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ صرف یہ سوال کرنے پر انہیں احتیاطی حراست سمیت آٹھ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، 21 ماہ جیل میں گزارنے پڑے اور ان کے خاندان کو اجتماعی سزا کے طور پر بے گھر کر دیا گیا۔ بعد ازاں عدالتوں نے واضح کیا کہ محمد جاوید کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا اور انہیں مکمل طور پر بری کر دیا گیا، مگر تب تک ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی، سماجی وقار اور خاندانی سکون تباہ ہو چکا تھا۔
محمد جاوید کا معاملہ کوئی استثنا نہیں بلکہ بھارت میں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے ایک خطرناک رجحان کی علامت ہے، جہاں الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی سزا نافذ کر دی جاتی ہے۔ 2017ء کے بعد سے بلڈوزر کے ذریعے گھروں اور کاروباروں کی مسماری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں غیر آئینی، غیر قانونی اور اجتماعی سزا قرار دے چکی ہیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے 2024ء میں واضح کیا کہ بغیر قانونی عمل کے جائیداد کی مسماری آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے، لیکن زمینی سطح پر یہ ہدایات مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہیں۔ محمد جاوید جیسے معاملات اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ موجودہ سیاسی ماحول میں قانون کی حکمرانی کمزور اور اقلیتوں کے لئے انصاف محض ایک وعدہ بنتا جا رہا ہے، جہاں عدالت سے بری ہونا بھی ٹوٹے ہوئے گھر اور اجڑی ہوئی زندگی واپس نہیں لا سکتا۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2024ء میں واضح طور پر کہا تھا کہ بغیر مناسب قانونی عمل کے مسماری غیر آئینی ہے، مگر افسوس کہ عدالتی ہدایات اور زمینی حقیقت کے درمیان خلیج کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کی حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی اسی تلخ حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں 2021ء سے 2025ء کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، معاشی بائیکاٹ، مذہبی مقامات کی مسماری اور دینی تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر منظم انداز میں قدغن لگائی گئی۔ "لو جہاد"، "لینڈ جہاد" اور اب "مزار جہاد" جیسے نعروں کو انتظامی کارروائیوں کے جواز کے طور پر پیش کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ محض قانون کا نہیں بلکہ نیت اور ترجیحات کا بھی ہے۔
جمہوری معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور ریاستی طاقت کو قانون کے دائرے میں رکھے۔ جب مذہبی شناخت کی بنیاد پر کارروائیاں معمول بن جائیں تو یہ صرف ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کے لئے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ آج اگر مزار نشانے پر ہے تو کل کوئی اور علامت ہو سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتیں اشتعال انگیز بیانیوں سے خود کو الگ رکھیں، عدالتی فیصلوں کا احترام کریں اور آئین میں درج مساوات، مذہبی آزادی اور وقارِ انسانی کے اصولوں کو عملی شکل دیں۔ بصورت دیگر، نفرت کی یہ آگ صرف اقلیتوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک کے اجتماعی ضمیر اور جمہوری ڈھانچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ریاستی طاقت محمد جاوید کی مسماری کے خلاف عمل کے جا رہی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔