آپ کو پارٹی نمائندہ خود نامزد کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ جے یو آئی کی الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے قومی اسمبلی میں مخصوص نشست پر اجنبی خاتون کو رکن بنانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ قابل افسوس ہے۔
پارٹی کے ترجمان نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کو کس اختیار نے دیا کہ وہ پارٹی نمائندہ خود نامزد کرے۔
مزید پڑھیں: جے یو آئی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کو حکومتی مکاری قرار دیدیا
جے یو آئی کے ترجمان نے مزید کہا کہ کے پی کے ہائی کورٹ کے حکم کو نظر انداز کرکے معاملہ ٹریبونل بھیجنا آئین و قانون کا مذاق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے حالیہ متنازع فیصلے ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی قیمت ہیں، الیکشن کمیشن سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک قومی ادارہ کے طور پر کام کرے۔
ترجمان اسلم غوری نے کہاکہ پارٹی امیدوار کے بجائے اجنبی خاتون کو مخصوص نشست دینے کا فیصلہ حیران کن ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پہلے رات کے اندھیرے میں دھاندلی ہوتی تھی، اب دن دیہاڑے ڈاکہ زنی شروع ہو گئی ہے، اور یہاں تو کوئی اصول و اقدار بھی نہیں رہے۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں جے یو آئی کی خواتین کی مخصوص نشست کے کیس میں الیکشن کمیشن نے حنا بی بی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے صدف احسان کو رکن قومی اسمبلی برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں اہم کردار نبھانے والی جے یو آئی بھی مائنس کردی گئی، سینیٹر کامران مرتضیٰ
الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حنا بی بی کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کر سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الیکشن کمیشن جے یو آئی رکن قومی اسمبلی فیصلے پر تنقید وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن جے یو ا ئی رکن قومی اسمبلی فیصلے پر تنقید وی نیوز الیکشن کمیشن قومی اسمبلی جے یو ا ئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔