data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کم نہ کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ملکی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خود اسٹیٹ بینک کے گورنر نے اعتراف کیا ہے کہ برآمدات کم اور درآمدات بڑھ گئی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بلند شرح سود نے معیشت کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ یہ وقت تھا کہ ایک موقع دیا جاتا اور شرح سود میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ فیصد کمی کی جاتی تاکہ کاروباری حلقوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو اور شرح سود سنگل ڈیجٹ پر آجاتی۔ احمد عظیم علوی نے مزید کہا کہ اگر بروقت فیصلے کیے جائیں تو نہ صرف کاروباری طبقے کو فائدہ ہوگا بلکہ برآمدات میں اضافہ اور ملکی ترقی بھی ممکن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خطے کے دیگر ممالک سے سبق نہیں سیکھا اور عالمی نمائشوں کے مواقع سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ 10.

5 فیصد شرح سود برقرار رکھنے سے کاروباری لاگت مزید بڑھ گئی ہے حالانکہ اگر اسے ایک سے ڈیڑھ فیصد کم کیا جاتا تو ملکی معیشت پر کوئی بڑا منفی اثر نہ پڑتا بلکہ برآمدکنندگان بینکوں سے سہولت حاصل کرکے اپنا کاروبار وسعت دے سکتے تھے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم