خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کی جانب سے SME کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026 میں نمایاں کاروباری حل پیش
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ نے SME میڈ اِن پاکستان کلسٹر ایکسپو 2026 میں اپنے اسٹال کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے مؤثر اور جامع حل پیش کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ایکسپو کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے زیرِ اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے SME شعبے میں کام کرنے والے معتبر اداروں اور پلیٹ فارمز نے شرکت کی۔
SME کلائنٹس کے ساتھ کامیاب شراکت داری اور ثابت شدہ کارکردگی کی بنیاد پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک کو اپنے خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے باعث بھرپور پذیرائی ملی۔ یہ قرضہ پروگرام مختلف زمروں پر مشتمل ہے جو بینک کے متنوع صارفین اور ان کی مختلف کاروباری ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔
ثاقب حسین ، ریجنل بزنس ہیڈ،خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا”خوشحالی مائیکروفنانس بینک میں SME شعبے کے لیے ہماری اولین ترجیح استحکام اور ترقی ہے جو سادہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے حاصل کی جاتی ہےتاکہ کاروباری مالکان اپنے اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔“
بینک کے اسٹال میں خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے تحت مختلف نمایاں حل پیش کیے گئے جن میں رننگ فنانس قرضہ شامل تھا جو مؤثر کیش فلو مینجمنٹ اور ورکنگ کیپیٹل کے تسلسل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کمرشل وہیکل فنانسنگ جو لاجسٹکس، نقل و حرکت اور تقسیم کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کاروباری توسیع میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر قرضہ لاگت میں کمی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدتی عملی پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تمام حل شرکاء میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو SME شعبے کی عملی ضروریات سے ان کی براہِ راست مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔
صدف ارشد رانا، سینئر ایریا مینیجر، خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا”ہمارے خوشحالی کاروباری قرضہ جات ہمارے صارفین کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلق اور مختلف معاشرتی طبقات کی ضروریات کو سمجھنے کا ثبوت ہیں جو مختلف SME صنعتوں میں محفوظ اور پائیدار ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔“
ملک کے SME شعبے کے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک اپنے دیہی، شہری اور نیم شہری صارفین کو مخصوص مالی مصنوعات، خدمات اور رہنمائی فراہم کرتا رہے گا جو پاکستان کے SME شعبے کی ترقی کے لیے بینک کے عزم اور ایک نمایاں مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اشتہار
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل خوشحالی مائیکروفنانس بینک کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔