ایران کے پاس وقت بہت کم، بات نہ مانی تو پہلے سے بڑا حملہ ہوگا، ٹرمپ کی دھمکی WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز

واشنگٹن (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بہت بڑا امریکی بحری بیڑا تیزی کے ساتھ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جو غیر معمولی طاقت، جوش اور واضح مقصد کے ساتھ حرکت میں ہے۔ ان کے مطابق یہ بحری بیڑا، جس کی قیادت معروف ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کر رہا ہے، اس بیڑے سے کہیں بڑا ہے جو ماضی میں وینزویلا کی طرف بھیجا گیا تھا۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جس طرح وینزویلا کے معاملے میں امریکی فوج تیار، باصلاحیت اور فیصلہ کن تھی، اسی طرح یہ بیڑا بھی ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو انتہائی تیزی اور سخت قوت کے ساتھ اپنا مشن پورا کر سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ کرے گا، جس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور یہ معاہدہ تمام فریقوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔امریکی صدر نے کہا کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے اور صورتحال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وہ اس سے قبل بھی ایران کو معاہدہ کرنے کا کہہ چکے ہیں، لیکن ایران نے اس وقت بات نہیں مانی، جس کے نتیجے میں آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے نام سے ایک بڑا فوجی حملہ ہوا جس میں ایران کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اب بھی معاہدہ نہ کیا گیا تو آئندہ حملہ اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا اور ایران کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کو دوبارہ جنم نہ دے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیف جسٹس ڈیپوٹیشن پر ایسے جج لائے جو بغیر گواہان کے فیصلے کر دیتے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی چیف جسٹس ڈیپوٹیشن پر ایسے جج لائے جو بغیر گواہان کے فیصلے کر دیتے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت الیکٹرک ٹرام اور ای بس منصوبے کے حوالے سے اجلاس وادی تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہورہی ہیں، طلال چوہدری پولیو کے مکمل خاتمے تک اقدامات جاری رکھیں گے ، وزیراعظم غیر مستحکم عالمی جیو پولیٹکس میں ازبکستان کے لیے پاکستان اہم تجارتی گیٹ وے بن گیا کوہستان اسکینڈل: نیب کی تاریخ کی سب سے بڑی یکمشت ریکوری، 4 ارب 5 کروڑ قومی خزانے میں جمع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل