مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس اور تزویراتی آبی راستے کے قریب ایران کی جانب سے فوجی مشقوں اور فضائی حدود کی بندش کے اعلان نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی متاثر ہونے کے خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔

???? アメリカ海軍の空母USSアブラハム・リンカーンは、駆逐艦に同行して、中東に到着し、現在、イランの射程範囲内にある。
リンク ????

@CaptKylePatriots pic.

twitter.com/urEnIzl9TU

— けんさん???? (@ken_san019) January 28, 2026

آبنائے ہرمز کے قریب 3 روزہ فوجی مشقیں، نوٹم جاری

ایران نے نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 27 سے 29 جنوری تک آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر فوجی مشقیں کی جائیں گی۔ نوٹم کے مطابق مخصوص علاقے میں زمین سے لے کر 25 ہزار فٹ کی بلندی تک فضائی حدود کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور اس دوران سول و فوجی پروازوں پر پابندی ہوگی۔

امریکی فوجی نقل و حرکت، کشیدگی میں مزید اضافہ

ایرانی اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی ایئر فورس سینٹرل کے مطابق خطے میں کئی روزہ ریڈی نیس مشقیں کی جا رہی ہیں جن کا مقصد تیز رفتار تعیناتی کی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔ اس کے علاوہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

US forces are quietly moving closer to Iran

Fighter jets left the UK for Jordan
Tankers and cargo planes backed the mission
An aircraft carrier is heading toward the Arabian Sea

This is not routine
This is positioning before options close pic.twitter.com/3BRIriC7Ra

— OSINT_PK (@osintPk) January 18, 2026

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی یا رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

ایران کی سخت وارننگ، امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کا فیصلہ بیانات سے نہیں بلکہ میدان میں ہوگا۔ ایرانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی قسم کے حملے کا جواب فوری اور ہمہ گیر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران سے بڑھتی کشیدگی، امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی، بحری بیڑا بحرِ ہند پہنچ گیا

ٹرمپ اور اسرائیل کا سخت مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو جواب ایسی قوت سے دیا جائے گا جو ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔

خطے کے ممالک کو پیغام

ایرانی حکام نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی زمین، فضائی حدود یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوا تو انہیں دشمن تصور کیا جائے گا۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی بھی معاندانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائیں گی۔

JUST IN:

???????????????? The United States is deploying an additional fleet of warships toward Iran. pic.twitter.com/timLbA8onN

— Globe Journal (@Factogenesis1) January 28, 2026

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت اور سخت بیانات نے خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا یہ کشیدگی محض دباؤ کی سیاست تک محدود رہے گی یا آبنائے ہرمز ایک نئے تنازع کا مرکز بننے جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی