آبنائے ہرمز پر خطرے کے بادل، امریکی بحری بیڑے کی آمد، ایران کا فضائی حدود بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس اور تزویراتی آبی راستے کے قریب ایران کی جانب سے فوجی مشقوں اور فضائی حدود کی بندش کے اعلان نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی متاثر ہونے کے خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔
???? アメリカ海軍の空母USSアブラハム・リンカーンは、駆逐艦に同行して、中東に到着し、現在、イランの射程範囲内にある。
リンク ????
@CaptKylePatriots pic.
— けんさん???? (@ken_san019) January 28, 2026
آبنائے ہرمز کے قریب 3 روزہ فوجی مشقیں، نوٹم جاری
ایران نے نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 27 سے 29 جنوری تک آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر فوجی مشقیں کی جائیں گی۔ نوٹم کے مطابق مخصوص علاقے میں زمین سے لے کر 25 ہزار فٹ کی بلندی تک فضائی حدود کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور اس دوران سول و فوجی پروازوں پر پابندی ہوگی۔
امریکی فوجی نقل و حرکت، کشیدگی میں مزید اضافہ
ایرانی اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی ایئر فورس سینٹرل کے مطابق خطے میں کئی روزہ ریڈی نیس مشقیں کی جا رہی ہیں جن کا مقصد تیز رفتار تعیناتی کی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔ اس کے علاوہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔
US forces are quietly moving closer to Iran
Fighter jets left the UK for Jordan
Tankers and cargo planes backed the mission
An aircraft carrier is heading toward the Arabian Sea
This is not routine
This is positioning before options close pic.twitter.com/3BRIriC7Ra
— OSINT_PK (@osintPk) January 18, 2026
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی یا رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
ایران کی سخت وارننگ، امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کا فیصلہ بیانات سے نہیں بلکہ میدان میں ہوگا۔ ایرانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی قسم کے حملے کا جواب فوری اور ہمہ گیر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے بڑھتی کشیدگی، امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی، بحری بیڑا بحرِ ہند پہنچ گیا
ٹرمپ اور اسرائیل کا سخت مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو جواب ایسی قوت سے دیا جائے گا جو ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
خطے کے ممالک کو پیغام
ایرانی حکام نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی زمین، فضائی حدود یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوا تو انہیں دشمن تصور کیا جائے گا۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی بھی معاندانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائیں گی۔
JUST IN:
???????????????? The United States is deploying an additional fleet of warships toward Iran. pic.twitter.com/timLbA8onN
— Globe Journal (@Factogenesis1) January 28, 2026
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت اور سخت بیانات نے خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا یہ کشیدگی محض دباؤ کی سیاست تک محدود رہے گی یا آبنائے ہرمز ایک نئے تنازع کا مرکز بننے جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔