Islam Times:
2026-07-24@10:22:51 GMT

بغداد سے صنعا تک امریکہ کو انتباہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

بغداد سے صنعا تک امریکہ کو انتباہ

اسلام ٹائمز: آج ایران اپنے خلاف انجام پانے والے ہر حملے کا چند محاذوں پر فوری جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ ایران اور اس کے اتحادی نیٹ ورکس کی جانب سے جوابی کاروائی کی یوں منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ اسے محدود حد تک باقی رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہو جاتی ہے۔ امریکہ کے جنگی بحری بیڑوں اور لاجسٹک مراکز پر میزائل حملوں سے لے کر گوریلا کاروائیاں اور انرجی کی نقل و حرکت کے حساس راستوں کو خطرے میں ڈال دینے تک سب کچھ ممکن ہے۔ یہ ڈیٹرنس پاور اس حد تک ہے کہ حتی ایران کے خلاف "محدود حملہ" یا "نمائشی اقدام" بھی ایسی وسیع جنگ کا سبب بن سکتا ہے جس کے غیر متوقع اور ناقابل کنٹرول اثرات سامنے آئیں۔ حالیہ واقعات کا پیغام واضح ہے۔ ایران سے ٹکراو ایک خطرناک، بھاری تاوان کا حامل اور شکست پذیر راستہ ہو گا۔ تحریر: مہدی سیف تبریزی
 
ان دنوں میں جب عالمی سطح پر میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک بار پھر ایران کے خلاف امریکہ کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں چہ میگوئیاں اپنے عروج پر ہیں، زمینی حقائق اور خطے کی سطح پر دی جانے والی وارننگز ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں۔ اسلامی مزاحمتی بلاک اور عالمی طاقتوں کی جانب سے غیرمعمولی طور پر ایران کی حمایت اور پوری طرح تیار ہونے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کا ممکنہ فوجی اقدام نہ صرف موثر واقع نہیں ہو گا بلکہ وسیع اور بے قابو ہو جانے والے نتائج کے حامل علاقائی اور عالمی بحران جنم لینے کا باعث بن جائے گا۔ اس تناظر میں عراق میں اسلامی مزاحمتی گروہ کتائب حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یمن میں اسلامی مزاحمتی گروہ انصاراللہ نے بھی ملا جلا موقف اختیار کیا ہے۔
 
حزب اللہ لبنان نے بھی ایران کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کی صورت میں بھرپور کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس قسم کے موقف مغربی ایشیا خطے کی سیکورٹی مساواتوں میں ایک مضبوط حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جو یہ ہے: ایران ایک فعال ڈیٹرنس کے مرکز میں واقع ہے اور اس سے ہر قسم کا ٹکراو بہت تیزی سے وسیع ٹکراو میں تبدیل ہو جائے گا۔ دوسری طرف، یمن سے لے کر عراق اور لبنان تک ایک جیسے موقف سامنے آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر خطے میں کوئی نئی جنگ شروع ہوتی ہے تو ایران کی جانب سے جوابی کاروائی کا جغرافیہ صرف ایران تک محدود نہیں ہو گا۔ یہ حقیقت واشنگٹن کے لیے "محدود حملے" اور "کنٹرول شدہ بحران" جیسے مفاہیم کو ایک خطرناک وہم بنا کر رکھ دیتی ہے۔ ایران آج نہ صرف اپنی میزائل طاقت اور فوجی صلاحیتوں پر تکیہ کرتا ہے بلکہ اس نے چند سطح کی ڈیٹرنس بھی تشکیل دے رکھی ہے۔
 
اس ڈیٹرنس میں فوجی طاقت، اتحادی علاقائی نیٹ ورکس، چند عشروں پر محیط نابرابر جنگ کا تجربہ اور ایک ہی وقت چند محاذوں پر جواب دینے کی اسٹریٹجک صلاحیت شامل ہے۔ اس منصوبہ بندی کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے فوجی میدان میں ہر اندازہ غلط ثابت ہو سکتا ہے اور اس کی غلطیوں کا تاوان بہت زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ بعض سطحی قسم کے تجزیات کے برعکس، ایران ایسا ملک نہیں جو دباو یا فوجی حملے کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔ تہران بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ اس کے خلاف کسی قسم کی جارحیت، چاہے وہ محدود پیمانے پر ہو اور چاہے وسیع پیمانے پر ہو، ایک بھرپور جنگ شروع ہونے کے مترادف جانی جائے گی اور ایسی جنگ علاقائی سطح عبور کر کے وسیع سطح تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ واشنگٹن کی ایک پرانی اسٹریٹجک غلطی اس کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ پیچیدہ جیوپولیٹیکل ماحول میں بھی ایک بحران کو کنٹرول کر سکتا ہے۔
 
اس سوچ کی جڑیں سرد جنگ تک جا پہنچتی ہیں اور اس میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں برتری، فضائیہ کی طاقت اور پہلا وار کرنے کی صلاحیت پر زور دیا جاتا ہے۔ لیکن مشرق وسطی کے زمینی حقائق ثابت کر چکے ہیں کہ یہ برتری نہ صرف اسٹریٹجک کامیابی کا باعث نہیں بنتی بلکہ خطے میں امریکہ کی سابقہ فوجی کاروائیوں جیسے عراق اور افغانستان کی جنگوں اور حتی شام اور یمن پر امریکہ کے فوجی آپریشنز سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں امریکہ کی اسٹریٹجک شکست کا باعث بنی ہے۔ ان ناکامیوں نے ثابت کیا ہے کہ روایتی فوجی برتری ایک ایسے علاقائی کھلاڑی کو شکست نہیں دے سکتی جو تزویراتی گہرائی اور اتحادیوں کی حمایت کا حامل ہو۔ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ چند محاذوں پر تھکا دینے والی جنگ ثابت ہو گی جو خلیج فارس سے لے کر بحیرہ عرب تک اور وہاں سے لے کر بحیرہ احمر اور بحیرہ قلزم تک پھیلی ہو گی۔
 
ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے اہم اثرات میں سے ایک عالمی معیشت اور انرجی کے شعبے پر اس کا اثر ہو گا۔ ایران خلیج فارس اور تجارت اور انرجی کی شاہراہوں کے مرکز میں واقع ہے اور اس علاقے میں کسی بھی قسم کا عدم استحکام بہت تیزی سے عالمی منڈیوں کو متاثر کرے گا۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافہ، سمندری راستوں کا غیر محفوظ ہو جانا، انشورنس کے اخراجات میں اضافہ اور عالمی رسد رک جانا اس بحران کے اثرات کا ایک حصہ ہوں گے۔ یہ اثرات ایران کو دباو کا شکار کرنے سے زیادہ مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی معیشت کو متاثر کریں گے۔ یہ صورتحال صرف انرجی کی منڈی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دنیا کی بنیادی مصنوعات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ یوں اقتصادی دراڑیں مزید بڑھ جائیں گی۔ دوسری طرف انصاراللہ یمن جیسے طاقتور علاقائی کھلاڑی بھی میدان میں کود پڑیں گے۔
 
آج ایران اپنے خلاف انجام پانے والے ہر حملے کا چند محاذوں پر فوری جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ ایران اور اس کے اتحادی نیٹ ورکس کی جانب سے جوابی کاروائی کی یوں منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ اسے محدود حد تک باقی رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہو جاتی ہے۔ امریکہ کے جنگی بحری بیڑوں اور لاجسٹک مراکز پر میزائل حملوں سے لے کر گوریلا کاروائیاں اور انرجی کی نقل و حرکت کے حساس راستوں کو خطرے میں ڈال دینے تک سب کچھ ممکن ہے۔ یہ ڈیٹرنس پاور اس حد تک ہے کہ حتی ایران کے خلاف "محدود حملہ" یا "نمائشی اقدام" بھی ایسی وسیع جنگ کا سبب بن سکتا ہے جس کے غیر متوقع اور ناقابل کنٹرول اثرات سامنے آئیں۔ حالیہ واقعات کا پیغام واضح ہے۔ ایران سے ٹکراو ایک خطرناک، بھاری تاوان کا حامل اور شکست پذیر راستہ ہو گا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کے خلاف کے خلاف کسی کی جانب سے اور انرجی امریکہ کے انرجی کی سے لے کر سکتا ہے کیا ہے اور اس

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی