امریکی صارفین کا ٹک ٹاک پر ٹرمپ مخالف مواد سینسر کرنے کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں ٹک ٹاک صارفین نے الزام عائد کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقیدی مواد کو سینسر کر رہا ہے۔ سینسر شپ سے متعلق یہ معاملہ چینی پلیٹ فارم کی مالک کمپنی بائٹ ڈائنس کو زبردستی حصص فروخت کرنے پر مجبور کیے جانے کے بعد پیش آیا ہے۔ ٹک ٹاک صارفین کے کے مطابق منیاپولس میں امریکا کی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپے اور احتجاج کی وڈیو بھی سینسر کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تحقیق کریں گے کہ ٹک ٹاک کانٹنٹ سینسر کر کے ریاست کے قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔