فیصل آباد، چور جیولری شاپ سے تجوری ہی اٹھا کر لے گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
فیصل آباد (نیوزڈیسک)سمن آباد میں جیولری شاپ پر بڑی چوری کی واردات سامنے آ گئی، جہاں ملزمان سونے سے بھری تجوری ہی اٹھا کر فرار ہو گئے۔
تاجر کے مطابق تجوری میں 34 تولے سے زائد سونا موجود تھا جس کی مالیت تقریباً پونے دو کروڑ روپے بنتی ہے۔واردات گزشتہ رات پیش آئی، جب دو ملزمان جیولرز شاپ میں داخل ہوئے اور تجوری اٹھا کر لے گئے۔ چوری کی یہ پوری واردات دکان میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہو گئی، جس کی فوٹیج منظر عام پر آ چکی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاجر نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے لوٹا گیا سونا برآمد کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔