پی ٹی آئی کو دھچکا، 2اہم رہنما عہد ے سے مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : پی ٹی آئی کے رہنما ئوں سابق اپوزیشن لیڈر عمرایوب اور شبلی فراز نے سیاسی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا۔سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو استعفیٰ کے بارے میں آگاہ کردیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی سے سابق اپوزیشن لیڈر عمرایوب اور شبلی فراز مستعفی ہو گئے۔ دونوں رہنماؤں نے استعفیٰ سے متعلق سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو آگاہ کردیاہے۔
قبل ازیں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عمر ایوب خان نے پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
واٹس ایپ کا صارفین کو سائبر اٹیک سے بچاؤ کیلئے بہترین سکیورٹی فیچر متعارف کرانے کا اعلان
رہنماپی ٹی آئی عمر ایوب نے ایک بیان میں کہا کہ قانونی اور سیاسی مصروفیات کی وجہ سے پولیٹیکل کمیٹی میں مؤثر کردار ادا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیٹیکل کمیٹی کی رکنیت صرف موجودہ پارٹی عہدیداران تک محدود ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو پولیٹیکل کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے۔
سینئر رہنما نے کہا کہ وہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے کارکن تھے، ہیں اور رہیں گے۔ تاہم پارٹی کے اندر فیصلے ادارہ جاتی انداز میں ہونے چاہیئیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو درپیش موجودہ چیلنجز کے پیش نظر ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ضروری ہے تاکہ تنظیمی اور پارلیمانی امور بہتر انداز میں چلائے جا سکیں۔
اسلام آباد : الیکٹرک ٹرام منصوبے پر جلد فیزیبلٹی سٹڈی کرانے کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پولیٹیکل کمیٹی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔