اریجیت سنگھ کی گلوکاری چھوڑنے کی وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
بھارت کے نامور پلے بیک سنگر اریجیت سنگھ نے گلوکاری سے کنارہ کشی کی وجہ بالی ووڈ کے غیر منصفانہ معاوضے کے نظام کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ فنکاروں کو مار رہے ہیں‘۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز اریجیت سنگھ کی جانب سے بطور پلے بیک سنگر پرفارم کرنا چھوڑنے کے کے فیصلے نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ پوری فلم انڈسٹری کو حیران کردیا ہے۔
اریجیت سنگھ اپنی سولڈ آؤٹ پرفارمنسز اور تقریباً تمام بڑی بالی ووڈ فلموں میں گانوں کے باعث عروج پر پہنچے مگر اپنے کیریئر کے عین عروج پر اریجیت نے فلمی دنیا سے پیچھے ہٹ کر بھارتی کلاسیکی موسیقی میں اپنی دلچسپی کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ یہ اعلان بہت سے لوگوں کے لیے غیر متوقع تھا، تاہم اریجیت اس فیصلے پر کافی عرصے سے غور کر رہے تھے۔
مختلف انٹرویوز میں انہوں نے اپنی ذاتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی شناخت اور آواز سے ایک وقت میں عدم وابستگی محسوس ہونے لگی، یہاں تک کہ ان کا اپنا نام بھی انہیں ناگوار لگنے لگا۔
2023 میں دی میوزک پوڈکاسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اریجیت نے اس دور کو یاد کیا جب شہرت ان پر بوجھ بننے لگی تھی۔
اریجیت سنگھ کے مداحوں کیلئے بری خبر، گلوکار کا حیران کن اعلان
اریجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب میں اپنے نام اریجیت سنگھ سے خود کو جوڑتا تھا۔ مگر جیسے جیسے میں بڑا ہوا، ایک مرحلہ ایسا آیا کہ اپنا نام سن کر ہی کوفت ہونے لگتی تھی۔ ہر طرف لوگ میرا نام پکار رہے ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شروع میں یہ سب بہت بھاری محسوس ہوتا تھا، مگر پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ نام اب میں نہیں رہا، بلکہ لوگوں کی بنائی ہوئی ایک شبیہ ہے، اسے سن کر مجھے چڑ ہونے لگتی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے اپنے ہی گانے سن کر کوفت ہوتی تھی۔ اب ایسا نہیں ہوتا، میں بس نظرانداز کر دیتا ہوں، پہلے میں اس بات پر بہت سخت تھا کہ اپنے گانے نہ سنوں، یہاں تک کہ گھر میں کوئی میرا گانا نہیں چلاتا تھا، بعد میں میں اس معاملے میں کچھ نرم پڑ گیا۔
اریجیت سنگھ نے موسیقی کی صنعت میں غیر منصفانہ ادائیگی کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ یہی عوامل آخرکار فنکاروں کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔
اپنی نسل کے مہنگے ترین گلوکاروں میں شامل ہونے کے باوجود اریجیت نے دعویٰ کیا کہ بیشتر فنکاروں کو ان کے کام کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ باتیں واضح ہونا چاہیے، یا تو کیے گئے کام کا مناسب معاوضہ دیں، یا پھر کام ہی نہ دیں جب کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں ان کی محنت کے تناسب سے ادائیگی نہیں ہوتی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اریجیت سنگھ کہنا تھا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔