اندازہ نہیں تھا پاکستان میں اتنی سردی ہوگی، گرم کپڑے بھی ساتھ نہیں لایا: آسٹریلوی کپتان
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پاکستان کے دورے پر آئی آسٹریلوی ٹیم کے کپتان مچل مارش نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اس قدر سردی کی توقع نہیں کر رہے تھے اور اسی وجہ سے مناسب گرم کپڑے ساتھ نہیں لا سکے۔پاکستان اور آسٹریلیاکے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز 29 جنوری سے یکم فروری تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی جائے گی۔یہ سیریز پاکستان اور آسٹریلیا کے لیے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے قبل تیاری کا بہترین موقع ہے۔سیریز کے لیے لاہور پہنچنے کے بعد آسٹریلوی کپتان مچل مارش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے اپنی ٹیم کی مکمل تیاری پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔آسٹریلوی کپتان مچل مارش نے کہا کہ یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ ہماری زیادہ تر ٹیم گزشتہ چار دنوں سے دبئی میں ٹریننگ کر رہی ہے اور اکٹھی وقت گزار رہی ہے۔مچل مارش نے کہا کہ بگ بیش لیگ کی مصروفیات کے باعث ہم میں سے کچھ کھلاڑی تھوڑا دیر سے یہاں پہنچے، لیکن ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور ایک شاندار سیریز کے منتظر ہیں۔ورک لوڈ مینجمنٹ کے باعث پاکستان کے خلاف سیریز میں آسٹریلیا کو پیٹ کمنز، ٹم ڈیوڈ، جوش ہیزل ووڈ اور گلین میکسویل جیسے اہم کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی۔تاہم مچل مارش نے واضح کیا کہ جو کھلاڑی اس سیریز کا حصہ نہیں ہیں وہ ورلڈکپ سے قبل اسکواڈ کو جوائن کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔پاکستان کے اس اہم دورے کے دوران آسٹریلوی ٹیم کو موسمی حالات کا بھی سامنا ہے، جس نے مچل مارش کو حیران کر دیا۔ آسٹریلوی کپتان نے اعتراف کیا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان میں اتنی سردی ہوگی، اسی لیے وہ مناسب گرم کپڑے ساتھ نہیں لائے۔مچل مارش نے کہا کہ مجھے ماننا پڑے گا کہ میں نے زیادہ گرم کپڑے پیک نہیں کیے ۔ معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں اتنی سردی ہوتی ہے، اب آئندہ کے لیے یہ بات ذہن میں رکھوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا سٹریلوی کپتان پاکستان میں مچل مارش نے پاکستان کے گرم کپڑے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان
لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔
حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔
کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے
الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔
کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔
دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔
مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار
ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔
انتخابی مہم عروج پرآزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔
ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟
اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن