زمین پر پانی کیسے آیا، چاند کی مٹی سے سائنسدانوں کی پوچھ گچھ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ناسا کے سائنسدان زمین کے ایک قدیم راز کو حل کرنے کے لیے چاند کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ زمین پر پانی کیسے آیا؟
یہ بھی پڑھیں: چاند پر اپنا نام بھیجیں، طریقہ کار ہم بتاتے ہیں
امریکی خلائی ایجنسی کی نئی تحقیق میں اپولو مشنز کے دوران جمع کی گئی چاند کی مٹی کا مطالعہ کیا گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ میٹیورائٹس (آسمانی پتھروں) کے ذریعے زمین پر پانی کب اور کتنی مقدار میں آیا ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں چاند کی گردی آلود سطح (لونی رِیگولیت) کا مطالعہ کیا گیا جو اربوں سال سے مختلف اثرات کو محفوظ رکھتی ہے۔
زمین کے برعکس چاند پر موسمی یا زمین کی حرکیات کی وجہ سے یہ معلومات ضائع نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیے: چاند پر دوسرے قدم کی تیاریاں، ناسا کا دیوہیکل راکٹ لانچنگ پیڈ پر پہنچ گیا
تحقیق کی قیادت ناسا کے پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر ٹونی گارگانو نے کی جو ہاؤسٹن میں جانسن اسپیس سینٹر اور لونیئر اینڈ پلانٹری انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں۔ ٹیم نے اپولو مشنز سے حاصل شدہ چاند کی مٹی کے نمونوں کا مطالعہ کیا اور ٹرپل آکسیجن آئسوٹوپس کے طریقے سے میٹیورائٹس کی شناخت کی۔ یہ طریقہ ایک فنگر پرنٹ کی طرح کام کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ چاند پر کس قسم کے آسمانی پتھر لگے۔
تحقیق میں پایا گیا کہ چاند کی سطح کے کم از کم ایک فیصد مواد کاربن سے بھرے میٹیورائٹس سے آیا جو پانی رکھتے تھے۔ تاہم زمین پر زیادہ اثرات کے حساب سے نتیجہ یہ نکلا کہ میٹیورائٹس کے ذریعے آنے والا پانی زمین کے موجودہ پانی کی مقدار کے لیے کافی نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
ناسا کے سیاروی سائنسدان اور تحقیق کے شریک مصنف جسٹن سائمن کے مطابق یہ نتائج یہ امکان ختم نہیں کرتے کہ میٹیورائٹس کے ذریعے پانی زمین تک آیا ہو۔ تاہم تحقیق نے ظاہر کیا کہ زمین پر دیر سے آنے والے میٹیورائٹس زمین کے پانی کا بنیادی ذریعہ نہیں ہو سکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پانی کہاں سے آیا چاند چاند کے انکشافات زمین زمین کا پانی زمین کو پانی کہاں سے ملا ناسا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پانی کہاں سے ا یا چاند چاند کے انکشافات زمین کا پانی زمین کو پانی کہاں سے ملا چاند کی زمین کے چاند پر
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔