جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں کیونکہ وہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف شدید تشدد اور دہشت کے ذریعے اقتدار قائم رکھے ہوئے ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایران کی موجودہ حکومت کے پاس حکمرانی کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہا ہے۔

ان الفاظ کا اظہار انھوں نے رومانیہ کے وزیرِاعظم الیے بولوژان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ 

فریڈرک مرز نے زور دیا کہ جب کوئی نظام صرف طاقت اور ظلم سے اقتدار میں برقرار رہ سکتا ہے تو وہ حقیقتاً اپنے اختتام کے قریب ہے۔

ان کے بقول ایران میں مظاہرے اب چند ہفتوں کا معاملہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایران کا موجودہ نظام ختم ہو جائے گا کیونکہ اسے عوام کی حمایت نہیں مل رہی۔

یاد رہے کلہ ایران میں دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہونے والا ملک گیر احتجاج میں 3 ہزار سے زائد مظاہرین ہلاک اور 5 ہزار سے زائد گرفتار ہوچکے ہیں۔

جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو بڑے حملے کی دھمکی دیتے ہوئے شدید دباؤ رکھا ہوا ہے۔

یورپی ممالک نے بھی انہی مظاہروں پر ایران پر تنقید اور مزید پابندیاں عائد کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی