ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں؛ جرمنی بھی ٹرمپ کی زبان بولنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں کیونکہ وہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف شدید تشدد اور دہشت کے ذریعے اقتدار قائم رکھے ہوئے ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایران کی موجودہ حکومت کے پاس حکمرانی کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہا ہے۔
ان الفاظ کا اظہار انھوں نے رومانیہ کے وزیرِاعظم الیے بولوژان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔
فریڈرک مرز نے زور دیا کہ جب کوئی نظام صرف طاقت اور ظلم سے اقتدار میں برقرار رہ سکتا ہے تو وہ حقیقتاً اپنے اختتام کے قریب ہے۔
ان کے بقول ایران میں مظاہرے اب چند ہفتوں کا معاملہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایران کا موجودہ نظام ختم ہو جائے گا کیونکہ اسے عوام کی حمایت نہیں مل رہی۔
یاد رہے کلہ ایران میں دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہونے والا ملک گیر احتجاج میں 3 ہزار سے زائد مظاہرین ہلاک اور 5 ہزار سے زائد گرفتار ہوچکے ہیں۔
جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو بڑے حملے کی دھمکی دیتے ہوئے شدید دباؤ رکھا ہوا ہے۔
یورپی ممالک نے بھی انہی مظاہروں پر ایران پر تنقید اور مزید پابندیاں عائد کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔