صدر مملکت کی دبئی کے حکمران سے ملاقات، برادرانہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات کی اور اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ مرکوز رہی۔
اس موقع پر صدر مملکت نے شیخ محمد بن راشد المکتوم کو دبئی کے حکمران کی حیثیت سے دو دہائیوں پر محیط قیادت پر مبارک باد دی اور دبئی کی سیاحت، مالیات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے عالمی مرکز کے طور پر غیر معمولی ترقی کو سراہا۔
دونوں فریقین نے دبئی کے ترقیاتی تجربات سے استفادہ کرنے پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا اور بندرگاہوں، لاجسٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔
صدرِ مملکت نے پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات بالخصوص سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور نج کاری پر روشنی ڈالی اور دبئی کےحکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
ملاقات میں دونوں فریقین نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔
صدر مملکت نے شیخ محمد بن زاید النہیان کے حالیہ دورہ اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے متحدہ عرب امارات کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی برادری کے عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔
ملاقات میں خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیرداخلہ سید محسن نقوی اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شیخ محمد بن راشد المکتوم اور متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات کے صدر مملکت دبئی کے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔