data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جکارتہ:انڈونیشیا میں موسلادھار بارشوں کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 38 ہو گئی ہے، جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم خراب موسم اور ملبے کی بھاری مقدار کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انڈونیشین حکام کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پاسرلانگو گاؤں میں پیش آیا، جہاں مسلسل بارشوں کے باعث پہاڑی علاقے کی مٹی کھسک گئی۔ مٹی کے تودے گرنے سے درجنوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو قریبی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

بندونگ سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ آدے دیان پرمانا نے بتایا کہ اب تک 38 لاشوں کی شناخت مکمل کی جا چکی ہے جبکہ 27 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری اور تربیت یافتہ اہلکاروں کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام کر رہی ہیں۔

ادھر انڈونیشین نیوی نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے دوران 23 فوجی بھی ملبے تلے پھنس گئے تھے۔ یہ فوجی انڈونیشیا اور پاپوا نیو گنی کی سرحد پر تعیناتی سے قبل علاقے میں تربیتی مشقوں میں مصروف تھے۔ نیوی کے مطابق فوجیوں کو نکالنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارشوں کے تسلسل کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے جبکہ متاثرین کے لیے خوراک، طبی امداد اور عارضی رہائش کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا میں مون سون کے موسم کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات عام ہیں، جو ہر سال قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لینڈ سلائیڈنگ

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق