نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما قتل
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: پی ٹی آئی کے انصاف یوتھ ونگ ویسٹ پنجاب کے نائب صدر خالد پٹھان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق خالد پٹھان پر فائرنگ اُس وقت کی گئی جب وہ اپنے معمولات کے مطابق کہیں جا رہے تھے اور نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کر دیا، یہ حملہ اس قدر بزدلانہ تھا کہ خالد پٹھان موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
تحریک انصاف نے اس بربریت کی شدید مذمت کی ہے اور حکام سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ قتل کسی فرد کا نہیں بلکہ پوری جماعت کا مسئلہ ہے،خالد پٹھان جیسے پرامن اور نوجوان رہنما کا قتل ایک سنگین جرم ہے جس پر فوری کارروائی ضروری ہے۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
پی ٹی آئی نے اس قتل کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی پُرزور اپیل کی اور کہا کہ یہ واقعہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور قانون کی حکمرانی کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ قتل اس بات کا غماز ہے کہ صوبے میں نوجوانوں کے لیے کوئی محفوظ ماحول نہیں ہے، ہر روز بے گناہ نوجوانوں کی زندگیاں چھین لی جاتی ہیں، حکومت اور انتظامیہ اس صورت حال کو قابو کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خالد پٹھان پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں