اسٹیٹ بینک کی رپورٹ اور معاشی استحکام
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ رپورٹ ایک ایسے مرحلے میں سامنے آئی ہے جب حکومتی دعویٰ ہے کہ قومی معیشت سنبھل رہی ہے۔ مگر زمینی حقائق اب بھی تشویش ناک ہیں۔ شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مہنگائی کا خطرہ بدستور برقرار ہے اور ایسے میں مالیاتی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں اور 16.
افراط زرکے بارے میں بتایا گیا ہے کہ 5 سے 7 فی صد کے اندر رہنے کی توقع ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے یہ بتایا جاتا ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ کاروبار اب بھی مہنگے قرضوں کے دباؤ میں ہیں۔ روزگار کے مواقعے گھٹتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی قوت خرید کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے فی الحال اقساط کی راہ اختیارکی ہے، لیکن ضرورت اس امرکی ہے کہ مالیاتی پالیسی کو حکومتی اصلاحات، پیداواری سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی ریلیف سے ہم آہنگ کیا جائے۔
اسٹیٹ بینک کا محتاط رویہ شاید وقت کی ضرورت بھی ہے کیونکہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال، امریکی صدرکی ٹیرف پالیسی اور امریکا اور ایران کی کشیدگی، تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے محتاط پالیسی کا اجرا کیا ہے۔
رپورٹ میں معاشی نمو کے حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں وہ محتاط امید دلاتے ہیں صنعتی شعبے کی بہتری، صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کا ثبوت ہے، لیکن اب یہ ساری ذمے داری حکومتی معاشی ٹیم پر آتی ہے کہ معاشی شرح نموکو کس طرح سے مزید آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ ورنہ یہ خوش فہمیاں وقتی ثابت ہوں گی۔ معیشت ماضی میں بھی کئی بار ایسا دیکھ چکی ہے جب اعداد و شمار تو خوش نما دکھائی دیتے ہیں مگر چند ہی برسوں میں وہی معیشت دوبارہ بحران کی لپیٹ میں آچکی ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے قرار دے کر بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے۔
بلاشبہ یہ ریاستی سطح پر ایک کامیابی ہے۔ کیونکہ یہی وہ اشارے ہوتے ہیں جن پر عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار کسی ملک کی معیشت کا اندازہ لگاتے ہیں، لیکن یہاں پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کامیابی عام شہری کی زندگی میں کامیابی کا باعث بنتی ہے۔ ایسے حالات میں جب بجلی اور مہنگی ہو رہی ہو،گیس اور روز مرہ زندگی کی اشیا کی گرانی کا سلسلہ بدستور جاری ہو تو عوام کیسے ریلیف محسوس کریں گے۔
پاکستان میں اس وقت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو موافق صورتحال نظر نہیں آرہی اور نہ ہی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کہ ان کو زیادہ سے زیادہ مراعات دے کر دوبارہ فعال کیا جائے۔ مہنگائی جب بڑھتی ہی رہتی ہے جیسا کہ پاکستان میں یہ سلسلہ اب کافی پرانا ہو چکا ہے تو مہنگائی میں سب سے پہلے مزدور، تنخواہ دار طبقہ اور پنشنرز متاثر ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جس طرح مالیاتی پالیسی اختیار کی گئی ہے تو ضروری ہے کہ حکومتی معاشی حکمت عملی ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہو، بہتر نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بینک، وزارت خزانہ ایک مشترکہ وژن کے تحت کام کریں جس میں استحکام کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ صرف مالیاتی پالیسی کے ذریعے معاشی اصلاحات نہیں لائی جاسکتیں بلکہ ٹیکس نظام میں بہتری، ریاستی اداروں کی اصلاح، توانائی کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ اور چھوٹی صنعتوں، گھریلو صنعتوں اور درمیانے درجے کے کاروبارکرنے والوں کے لیے جلد ازجلد مراعاتی پیکیج یا ان کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کی پالیسی نہ اختیار کی جائے، صرف مالیاتی اصلاحات سے کام نہیں چلتا۔ فی الحال تو اس رپورٹ کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حکومت کے لیے ایک انتباہی رپورٹ ہے اور مواقعے کی بھی نشاندہی کرتی ہے، لہٰذا موجودہ بہتری کو مستقل نہ سمجھا جائے، اگر درست فیصلے بروقت لیے گئے تو شرح نمو جسے پونے چار سے بڑھنے کے امکانات بتائے جاتے ہیں وہ 6 تا7 فی صد تک بھی جا سکتے ہیں۔ اس طرح معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے،کیونکہ عوام کو صرف اعداد و شمار کی خوشنمائی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ تو اپنی زندگی میں بہتری دیکھنا چاہتی ہے۔
ریاست کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ احتیاط اور جمود کے درمیان توازن پیدا کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جو معیشت کو نہ صرف بحران سے نکالے بلکہ عوام کے لیے امید، روزگار اور مہنگائی سے چھٹکارے کا سبب بنے اور اسی راہ پر چلتے ہوئے پاکستان عارضی معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر معاشی استحکام میں ڈھال سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معاشی استحکام اسٹیٹ بینک کے لیے
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔