کوئٹہ، کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم پر تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
شرکاء نے تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام مستقبل میں بھی منعقد ہونے چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے ”کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم“ کے موضوع پر تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔ پالیسی ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب سے صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایا، چیف کوآرڈنیشن افیسر سی وی ای ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ، ڈاکٹر عصمت اللہ، اسرار احمد مدنی، افتخار فردوس، فہد نبیل اور دیگر شرکاء نے خطاب کیا۔ صوبائی مشیر مینا مجید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی سربراہی میں نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کے لیے یوتھ پالیسی پر کام کر رہی ہے، جس کے لیے یوتھ سوشیو اکنامک ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے اہم منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت نوجوانوں کو بے بنیاد و منفی پروپیگنڈے اور غلط معلومات سے بچنے کے لیے آگاہی دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی کیرئیر کاؤنسلنگ کے لیے یوتھ ریسورس سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت بلوچستان انہیں باقاعدہ ٹریننگ دے رہی ہے اور انہیں تربیت دے کر 30 ہزار نوجوانوں کو دیگر ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مزید براں نوجوانوں کو ڈیجیٹل ٹریننگ دے کر انہیں لیپ ٹاپ دیئے جائیں گے، تاکہ وہ گھر بیٹھے آن لائن روزگار کے قابل بن سکیں۔ اس کے علاوہ صوبے میں فٹ بال اور کرکٹ کے ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ صوبائی مشیر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے نوجوان نسل کو تعلیمی سہولیات یقینی بنانے کے لیے گھوسٹ اسکول بحال کیے ہیں، تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ تقریب سے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایا دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کو ”کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم“ جیسے اہم موضوع پر پالیسی ڈائیلاگ کے انعقاد کو احسن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام مستقبل میں بھی منعقد ہونے چاہئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پالیسی ڈائیلاگ حکومت بلوچستان کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔