ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات،وزیراعلیٰ پختونخواکے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد،ہری پور(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے کیس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔عدالت نے عدم حاضری پر سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔سینئر سول جج عباس شاہ نے سہیل آفریدی کے خلاف درج مقدمہ کی سماعت کی۔کیس کی مزید سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔واضح رہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔علاوہ ازیںسہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے سوا کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرات نہیں، عمران خان نے کافروں کی سرزمین پر مسلم اْمہ کے لیے آواز اٹھائی اس لیے انہیں ہٹایا گیا، ایک ملک کو وہ پسند نہیں تھے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بدھ کے روز یونیورسٹی آف ہری پور کے پانچویں کانووکیشن سے خطاب میں فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ امید ہے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں فارم 47 کے مسلط شدہ کرپٹ ٹولے کو سیاست اور حکمرانی دونوں میدانوں میں عبرت ناک شکست دے کر دکھاؤں گا، ملک کے حالات سب کے سامنے ہیں، دنیا چاند پر پہنچ گئی اور بدقسمتی سے ہم امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں بیرونی سازش کے ذریعے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، صرف اس لیے کہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا، عمران خان نے کافروں کی سرزمین پر مسلم اْمہ کے لیے آواز اٹھائی اور یہی بات ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرات نہیں، کیونکہ سب کو اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے لوگوں کو شدید برفباری میں زبردستی گھروں سے نکالا گیا اور زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، کچھ بے شرم وفاقی وزرا پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تیراہ کے لوگ برفباری کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں، ایک طرف تیراہ کے لوگ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، دوسری طرف بے شرم سیاستدان ان کا مذاق اڑا رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا، ان لوگوں کو زبردستی نکالا گیا اور انہیں کوئی مالی مدد بھی فراہم نہیں کی گئی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی مسخروں کے مفادات پاکستان سے نہیں جڑے، ان کے مفادات صرف لوٹ مار سے وابستہ ہیں، پاکستانی عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرونِ ملک بھاگ جانا ہی ان کا مقصد ہے، جو بھی پاکستان میں ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، یہ لوگ اس کا ساتھ برا حشر کرتے ہیں لیکن میں نہیں جھکوں گا، پوری دنیا کی طاقت میرے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی، میں عوام کی مدد سے ان کا مقابلہ کروں گا، جو بھی میرے صوبے کے مفاد میں نہیں ہوگا، میں اس کی ہر پالیسی کے خلاف کھڑا ہوں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کے رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.