جیکب آباد، بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ، جبری بندش معمول بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد میں بدترین لوڈشیڈنگ، اعلانیہ کے ساتھ غیر اعلانیہ اور جبری بندش معمول بن گئی ،پی ڈی سی سکھر اور گرڈ عملے کی من مانی، شہر ساری رات اندھیرے میں ڈوبا رہا۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں بجلی کی فراہمی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، جہاں اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ اور جبری لوڈشیڈنگ بھی معمول بن گئی ہے۔ پی ڈی سی سکھر کی جانب سے الگ سے جبری لوڈشیڈنگ اور گرڈ عملے کی من مانی کے باعث شہری سارا دن بجلی سے محروم رہے، جس سے کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو کر رہ گئی۔سب سے زیادہ ریکوری دینے والے سٹی ون فیڈر پر صورتحال انتہائی تشویشناک رہی، جہاں صارفین کی شکایات کے مطابق 24 گھنٹوں میں 15 سے 18 گھنٹے تک بجلی بند رکھی گئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سٹی ون فیڈر پر روزانہ 8 گھنٹے اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ کم از کم 2 گھنٹے جبری لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ اور اچانک بجلی بندش بھی کی جاتی ہے جس کا کوئی شیڈول یا اطلاع نہیں دی جاتی۔شہریوں کے مطابق رات کے وقت بھی صورتحال بدترین رہی، جہاں ایکسپریس فیڈر سمیت متعدد فیڈرز پر 5 گھنٹے تک بجلی بند رکھی گئی جو رات پونے تین بجے بحال ہو سکی۔ رات کے اوقات میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث اندھیرے نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کا فائدہ جرائم پیشہ عناصر اٹھاتے ہوئے چوری، رہزنی اور ڈکیتیوں کی وارداتیں کر رہے ہیں۔شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیپکو اور پی ڈی سی سکھر کا یہ طرزِ عمل شہریوں کو عدم تحفظ کی طرف دھکیل رہا ہے، اور رات کے وقت بجلی کی طویل بندش جرائم پیشہ عناصر کی سہولت کاری کے مترادف ہے۔ متاثرہ صارفین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ اور جبری لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے، لوڈشیڈنگ کے شیڈول پر سختی سے عمل کرایا جائے اور ذمے دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، کیونکہ بجلی کے بغیر نہ صرف کاروبار تباہ ہو رہا ہے بلکہ شہریوں کی جان و مال بھی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غیر اعلانیہ اور جبری لوڈشیڈنگ لوڈشیڈنگ کے جیکب ا باد
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔