مینیسوٹا میں آئی سی ای اہلکاروں کو مشتعل افراد سے دور رہنے کی ہدایت، کارروائیوں میں بڑی تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
امریکا کی ریاست مینیسوٹا میں امیگریشن چھاپوں کے دوران بڑھتی کشیدگی اور حالیہ ہلاکتوں کے بعد امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے اپنے اہلکاروں کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت انہیں کارروائی کے دوران مظاہرین یا مشتعل افراد سے بات چیت سے گریز کرنے اور صرف فوجداری ریکارڈ رکھنے والے تارکینِ وطن کو ہی نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کردیا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز جاری کی گئی اندرونی ہدایات میں مینیسوٹا میں تعینات آئی سی ای افسران کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ امیگریشن کارروائیوں کے دوران کسی بھی قسم کے ’مشتعل افراد‘ سے رابطہ یا گفتگو نہ کریں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی بات چیت صورتحال کو مزید خراب کرنے کا سبب بنتی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
Anti-Protester shines a strobing flashlight into a female MPD officer’s eyes outside Graduate by Hilton hotel that has been completely boarded up and barricaded off #Minneapolis pic.
— Becca Brannon (@RebsBrannon) January 29, 2026
نئی پالیسی کے تحت افسران کو صرف احکامات دینے تک محدود رہنے اور عوام سے کسی قسم کی بحث سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے اہلکاروں کو میگا فون فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ گرفتاری کے عمل کے ہر مرحلے کو بلند آواز میں واضح کر سکیں۔
اہم تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ اب آئی سی ای افسران صرف انہی تارکینِ وطن کو گرفتار کر سکیں گے جن کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہوں یا جو پہلے سے کسی جرم میں ملوث رہے ہوں۔ اس طرح وسیع پیمانے پر کی جانے والی چھاپہ مار کارروائیوں سے گریز کیا جائے گا، جن پر ماضی میں شدید عوامی ردعمل اور قانونی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں ‘نو کنگز’ احتجاج: ٹرمپ نے خود کو بادشاہ بناکر مظاہرین پر گندگی گرانے والی ویڈیو شیئر کر دی
یہ اقدامات مینی ایپولس اور سینٹ پال میں امیگریشن کارروائیوں کے دوران دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد کیے گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ان واقعات کے بعد کشیدگی کم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مینیسوٹا میں امیگریشن کارروائیوں کی نگرانی بارڈر سیزر ٹام ہومین کے سپرد کر دی ہے، جبکہ بارڈر پیٹرول کے ایک سینیئر کمانڈر کو عہدے سے ہٹا کر کارروائیوں کو زیادہ ’ہدفی‘ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نئی ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی سی ای کو اب ریاستی اور مقامی حکام سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعاون حاصل ہو رہا ہے، جس کے باعث پیرول یا پروبیشن پر رہا کیے گئے افراد کی گرفتاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم ان ہدایات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن حالات میں احکامات جاری کیے جائیں گے یا اگر عوام کی جانب سے ان پر عمل نہ کیا جائے تو اہلکار کیا کارروائی کریں گے، جس پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا احتجاج امیگریشن چھاپے مینی ایپولس مینیسوٹا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا احتجاج امیگریشن چھاپے مینی ایپولس مینیسوٹا
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔