امریکا کی ریاست مینیسوٹا میں امیگریشن چھاپوں کے دوران بڑھتی کشیدگی اور حالیہ ہلاکتوں کے بعد امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے اپنے اہلکاروں کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت انہیں کارروائی کے دوران مظاہرین یا مشتعل افراد سے بات چیت سے گریز کرنے اور صرف فوجداری ریکارڈ رکھنے والے تارکینِ وطن کو ہی نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کردیا

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز جاری کی گئی اندرونی ہدایات میں مینیسوٹا میں تعینات آئی سی ای افسران کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ امیگریشن کارروائیوں کے دوران کسی بھی قسم کے ’مشتعل افراد‘ سے رابطہ یا گفتگو نہ کریں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی بات چیت صورتحال کو مزید خراب کرنے کا سبب بنتی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

Anti-Protester shines a strobing flashlight into a female MPD officer’s eyes outside Graduate by Hilton hotel that has been completely boarded up and barricaded off #Minneapolis pic.

twitter.com/fuken7Agsp

— Becca Brannon (@RebsBrannon) January 29, 2026

نئی پالیسی کے تحت افسران کو صرف احکامات دینے تک محدود رہنے اور عوام سے کسی قسم کی بحث سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے اہلکاروں کو میگا فون فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ گرفتاری کے عمل کے ہر مرحلے کو بلند آواز میں واضح کر سکیں۔

اہم تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ اب آئی سی ای افسران صرف انہی تارکینِ وطن کو گرفتار کر سکیں گے جن کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہوں یا جو پہلے سے کسی جرم میں ملوث رہے ہوں۔ اس طرح وسیع پیمانے پر کی جانے والی چھاپہ مار کارروائیوں سے گریز کیا جائے گا، جن پر ماضی میں شدید عوامی ردعمل اور قانونی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں ‘نو کنگز’ احتجاج: ٹرمپ نے خود کو بادشاہ بناکر مظاہرین پر گندگی گرانے والی ویڈیو شیئر کر دی

یہ اقدامات مینی ایپولس اور سینٹ پال میں امیگریشن کارروائیوں کے دوران دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد کیے گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ان واقعات کے بعد کشیدگی کم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مینیسوٹا میں امیگریشن کارروائیوں کی نگرانی بارڈر سیزر ٹام ہومین کے سپرد کر دی ہے، جبکہ بارڈر پیٹرول کے ایک سینیئر کمانڈر کو عہدے سے ہٹا کر کارروائیوں کو زیادہ ’ہدفی‘ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نئی ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی سی ای کو اب ریاستی اور مقامی حکام سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعاون حاصل ہو رہا ہے، جس کے باعث پیرول یا پروبیشن پر رہا کیے گئے افراد کی گرفتاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم ان ہدایات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن حالات میں احکامات جاری کیے جائیں گے یا اگر عوام کی جانب سے ان پر عمل نہ کیا جائے تو اہلکار کیا کارروائی کریں گے، جس پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا احتجاج امیگریشن چھاپے مینی ایپولس مینیسوٹا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا احتجاج امیگریشن چھاپے مینی ایپولس مینیسوٹا

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق