امریکا نے پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو الرٹ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کا سفر کرنے کے خواہش مند امریکی شہریوں کو اپنے منصوبوں پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ انتباہ 26 جنوری کو جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری اپ ڈیٹ میں دیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق پاکستان میں جرائم، سول بدامنی، دہشتگردی، اغوا کے خطرات کے باعث امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان لیول تھری کیٹیگری میں شاملامریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کو لیول 3 (Reconsider Travel) کیٹیگری میں رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہاں سیکیورٹی کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور دہشتگرد حملے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہو سکتے ہیں۔
ممکنہ اہداف کون سے مقامات ہو سکتے ہیں؟ایڈوائزری کے مطابق دہشتگرد حملوں کے ممکنہ اہداف میں ٹرانسپورٹ کے مراکز، ہوٹلز اور مارکیٹس، شاپنگ مالز، فوجی اور سیکیورٹی تنصیبات، ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن، اسکول، اسپتال، عبادت گاہیں، سیاحتی مقامات اور سرکاری عمارتیں شامل ہو سکتی ہیں
بعض علاقے لیول فور قرارپاکستان کے بعض علاقے، خصوصاً خیبر پختونخوا کے بعض حصوں کو لیول 4: ڈو ناٹ ٹریول (سفر نہ کریں) کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ لیول 4 علاقوں میں کسی بھی مقصد کے لیے سفر نہ کیا جائے۔
اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کا خدشہایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ لیول فور علاقوں میں اغوا، قتل کی کوششیں عام ہیں، جن کا نشانہ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی بن سکتے ہیں۔ یہ انتباہ پاکستانی نژاد امریکی شہریوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
مظاہروں میں شرکت پر گرفتاری کا خدشہاسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ پاکستان میں بغیر اجازت مظاہروں کی قانونی اجازت نہیں اور ماضی میں ایسے مظاہروں میں شرکت کرنے پر امریکی شہریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
لیول تھری اور لیول فور کا مطلبلیول 3: سنگین سیکیورٹی خطرات، سفر پر نظرثانی کی ہدایت
لیول 4: سب سے اعلیٰ انتباہی سطح، ہر قسم کے سفر سے گریز کی ہدایت
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ٹریول ایڈوائزری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ٹریول ایڈوائزری امریکی شہریوں کو سکتے ہیں
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔