امریکا: بھارتی نژاد سائبر سیکیورٹی چیف نے حساس ڈیٹا لیک کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
امریکا کے اعلیٰ ترین سائبر دفاعی ادارے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (CISA) کے قائم مقام سربراہ مدھو گوتمکلا کی جانب سے حساس سرکاری دستاویزات چیٹ جی پی ٹی کے عوامی ورژن میں اپ لوڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ انکشاف امریکی جریدے پولیٹیکو کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آیا۔
خودکار سیکیورٹی الرٹس اور داخلی جانچرپورٹ کے مطابق گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والی اس غلطی کے بعد CISA کے سیکیورٹی سینسرز نے خودکار وارننگ جاری کی۔ امریکی محکمہ داخلہ (DHS) نے ممکنہ نقصان کا جائزہ لینے کے لیے اندرونی تحقیقات شروع کیں۔ 4 ڈی ایچ ایس عہدیداروں نے تصدیق کی کہ یہ معاملہ اگست کے آغاز میں سامنے آیا تھا۔
خصوصی اجازت کے تحت چیٹ جی پی ٹی کا استعمالقائم مقام ڈائریکٹر مدھو گوتمکلا نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کے لیے خصوصی استثنیٰ (Exception) حاصل کیا تھا، جبکہ یہ اے آئی ٹول دیگر ڈی ایچ ایس ملازمین کے لیے بند تھا۔
واضح رہے کہ مدھو گوتمکلا بھارتی نژاد ہیں۔ ان کا بنیادی تعلق ریاست آندھرا پردیش سے ہے۔
انہوں نے ایسی دستاویزات چیٹ جی پی ٹی میں ڈالیں جو ‘For Official Use Only’ کے زمرے میں آتی تھیں۔ یہ مواد اگرچہ خفیہ (Classified) نہیں تھا، تاہم حساس نوعیت کا اور عوامی سطح پر جاری کرنے کے لیے نہیں تھا۔
معلومات کے افشا ہونے کا خدشہرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عوامی چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کی گئی معلومات اوپن اے آئی کے ساتھ شیئر ہو سکتی ہیں جس سے سرکاری ڈیٹا کے وسیع صارفین تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس، ڈی ایچ ایس کے منظور شدہ اے آئی ٹولز اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ ڈیٹا وفاقی نیٹ ورکس سے باہر منتقل نہ ہو۔
CISA کا مؤقفCISA کی ڈائریکٹر پبلک افیئرز مارسی میک کارتھی نے بیان میں کہا کہ گوتمکلا کو چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کی اجازت ڈی ایچ ایس کنٹرولز کے تحت دی گئی تھی، اور یہ استعمال قلیل مدت اور محدود نوعیت کا تھا۔
قیادت اور سیکیورٹی تنازعاتمدھو گوتمکلا مئی سے CISA کے قائم مقام سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ مستقل ڈائریکٹر کے نامزد امیدوار شان پلانکی کی تاحال توثیق نہیں ہو سکی۔ یہ واقعہ گوتمکلا کے مختصر دورِ قیادت میں سامنے آنے والے متعدد سیکیورٹی اور انتظامی تنازعات کی تازہ کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
پولی گراف ٹیسٹ کا تنازعگزشتہ سال جولائی میں یہ بھی رپورٹ ہوا تھا کہ گوتمکلا نے انتہائی حساس انٹیلی جنس تک رسائی کے لیے لیا گیا کاؤنٹر انٹیلی جنس پولی گراف ٹیسٹ پاس نہیں کیا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے کانگریس میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے اس دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔
اے آئی کے فروغ کے دوران سیکیورٹی سوالاتیہ سیکیورٹی خلاف ورزی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ وفاقی اداروں میں اے آئی کے استعمال کو تیزی سے فروغ دے رہی ہے۔
گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے ریاستی سطح پر اے آئی قوانین محدود کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ اور خبردار کیا کہ مختلف قوانین امریکا کی چین کے مقابلے میں مسابقت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
پینٹاگون کی ’اے آئی فرسٹ‘ حکمت عملیاسی تناظر میں امریکی وزارت دفاع نے ‘AI-first’ حکمت عملی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت فوجی نظام میں جدید اے آئی ماڈلز کو شامل کیا جائے گا۔
وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق دفاعی نیٹ ورکس میں ایلون مسک کا گروک (Grok) سمیت دیگر جدید اے آئی ماڈلز کو ضم کرنے کا منصوبہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی سائبر سیکیورٹی چیف مدھو گوتمکلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی ڈی ایچ ایس اے آئی کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔