’اپ لفٹ اے آئی‘ کی 35 لاکھ ڈالر فنڈنگ، ہزاروں پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھلنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستانی وائس اے آئی اسٹارٹ اپ اپ لفٹ اے آئی نے 35 لاکھ ڈالر کی سیڈ فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ اس سرمایہ کاری کی قیادت عالمی شہرت یافتہ ایکسیلیریٹر وائی کومبینیٹر نے کی جبکہ پاکستان کے معروف ابتدائی مرحلے کے وینچر فنڈ انڈس ویلی کیپیٹل بھی اس راؤنڈ کا حصہ رہے۔
کمپنی کے جاری کردہ بیان کے مطابق فنڈنگ راؤنڈ میں پائنیئر فنڈ، کنجکشن، مومنٹ وینچرز اور سلیکون ویلی سے تعلق رکھنے والے اینجل سرمایہ کاروں نے بھی سرمایہ کاری کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے ’کم قیمت‘ اے آئی پلس پلان عالمی سطح پر متعارف کرادیا
اپ لفٹ اے آئی کی بنیاد زید قریشی اور حماد ملک نے رکھی جو اس سے قبل ایپل اور ایمازون جیسے عالمی اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ اسٹارٹ اپ اردو، پنجابی اور بلوچی سمیت علاقائی زبانوں کے لیے وائس آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلز تیار کرتا ہے تاکہ صارفین مقامی زبان میں گفتگو کے ذریعے ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکیں۔
کمپنی کا فلیگ شپ ماڈل ‘Orator’ اردو زبان میں انسانی انداز سے قریب تر آواز میں گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اپ لفٹ اے آئی کے مطابق اس کے پلیٹ فارم کو ڈویلپرز اور چھوٹے کاروباروں میں نمایاں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور اس وقت 1,000 سے زائد ڈویلپرز اس کے APIs کے ذریعے مختلف حل تیار کر رہے ہیں جن میں ایف آئی آر رجسٹریشن بوٹس اور دیہی علاقوں کے لیے ہیلتھ انٹیک سسٹمز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال
کمپنی کا مؤقف ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں وائس فرسٹ ٹیکنالوجی نہایت اہمیت رکھتی ہے جہاں 42 فیصد بالغ آبادی ناخواندہ ہے جس کے باعث ڈیجیٹل معیشت تک رسائی محدود رہتی ہے۔
اپ لفٹ اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد ملک کا کہنا ہے کہ وائس ٹیکنالوجی عوام کو علم اور معاشی مواقع فراہم کر کے ملکی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کے بجائے حال میں قابلِ عمل بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے اے آئی کو ’سپر سونک سونامی‘ قرار دے دیا، ان کی وارننگ کیا ہے؟
انڈس ویلی کیپیٹل کے پارٹنر عاطف اعوان نے کہا کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں وائس ٹیکنالوجی ڈیجیٹل معیشت تک رسائی کا بنیادی ذریعہ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق اپ لفٹ اے آئی علاقائی زبانوں کے لیے بنیادی وائس اے آئی انفراسٹرکچر فراہم کر رہی ہے۔
زراعت، بینکاری، صحت اور حکومتی شعبوں میں وائس فرسٹ ٹیکنالوجی ایسے طبقات تک رسائی ممکن بنائے گی جہاں روایتی ٹیکسٹ بیسڈ حل مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔
سنجینٹا پاکستان کے ہیڈ آف اے آئی ٹرانسفارمیشن سلطان راجہ کے مطابق اپ لفٹ اے آئی کی وائس ٹیکنالوجی کسانوں تک ان کی اپنی زبان میں معلومات پہنچا کر زرعی پیداوار میں اضافے میں مدد دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
اپ لفٹ اے آئی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر زید قریشی نے بتایا کہ کمپنی نے ڈیٹا اکٹھا کرنے، لیبلنگ اور ماڈلز کی تربیت کا تمام عمل خود انجام دیا ہے کیونکہ تیار شدہ حل علاقائی زبانوں کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔
کمپنی نے بتایا کہ اس فنڈنگ کا تقریباً 10 لاکھ ڈالر ڈیٹا اکٹھا کرنے اور لیبلنگ پر خرچ کیا جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان میں ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ باقی سرمایہ تحقیق و ترقی پر خرچ کیا جائے گا تاکہ پاکستان کی بڑی زبانوں کے لیے جدید وائس ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے بچوں کو اے آئی کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے کمر کس لی
اگرچہ اپ لفٹ اے آئی خود کو عالمی سطح پر وائس ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا ادارہ تصور کرتی ہے تاہم کمپنی کے مطابق قریبی اور درمیانی مدت میں اس کی توجہ پاکستان پر ہی مرکوز رہے گی۔
کمپنی کے مطابق اس کا پلیٹ فارم فی الحال سرکاری اداروں کے بجائے اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے دستیاب ہے اور اس وقت 1,000 سے زائد ڈویلپرز اس کی API استعمال کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپ لفٹ اے آئی اے آئی اے آئی نوکریاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی نوکریاں وائس ٹیکنالوجی یہ بھی پڑھیں زبانوں کے کے مطابق تک رسائی اے ا ئی کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔