پاکستان میں نیپاہ وائرس کے خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات سخت کردیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بھارت کے ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق کے بعد پاکستانی محکمہ صحت نے تمام سرحدی راستوں پر سخت حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔
بھارتی حکام کے مطابق ان دونوں کیسز کو بروقت کنٹرول کیا گیا اور وائرس کے کسی اضافی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعلقہ افراد کی نگرانی اور ٹیسٹنگ کی گئی۔ بھارت میں 196 افراد جن کا ان دونوں مریضوں سے رابطہ تھا، ٹیسٹ کے بعد تمام منفی پائے گئے۔
پاکستان میں سرحدی سکریننگپاکستان کی وزارتِ قومی صحت، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے ایڈوائزری میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد کو بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کی منظوری کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام مسافر، عملہ، ڈرائیور، ہیلپرز اور سپورٹ اسٹاف کی 100% اسکریننگ کی جائے گی۔ سفر کی مکمل تفصیل، گزشتہ 21 دنوں کی تاریخ، اور ملک کی تصدیق لازمی ہوگی۔
نیپاہ متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والے افراد پر خاص توجہ دی جائے گی اور غلط بیانات فوری رپورٹ کیے جائیں گے۔
سکریننگ اور طبی جانچتمام مسافروں کی تھرمل اسکریننگ اور کلینیکل اسیسمنٹ کی جائے گی۔
اسکریننگ عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ درج ذیل علامات کے لیے خبردار رہیں:
بخار، سر درد، سانس لینے میں دشواری اور دماغی علامات جیسے الجھن یا نیند کا زیادہ آنا۔
مشتبہ کیسز کا انتظاممشتبہ کیسز کو الگ کر کے انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز کے مطابق علاج کیا جائے گا۔ متاثرہ گاڑیاں اور ارد گرد کے علاقے ڈی سیف کیا جائیں گے۔ ہر قسم کی حفاظت کے اقدامات، جیسے PPE، ہاتھوں کی صفائی اور ماحول کی صفائی لازمی ہیں، اور کسی بھی غفلت کو سنگین سمجھا جائے گا۔
سرحدی اور بین الاقوامی نگرانییہ اقدامات بین الاقوامی ہوائی اڈے، سمندری بندرگاہیں اور زمینی سرحدی راستوں پر نافذ کیے جائیں گے۔ روزانہ رپورٹس BHS-P سسٹم میں درج کر کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) اور نیشنل IHR فوکل پوائنٹ کو بھیجی جائیں گی۔
نیپاہ وائرس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟نیپاہ ایک انوکھا اور جان لیوا وائرس ہے جو زیادہ تر جانوروں، خاص طور پر پھل خور چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
یہ وائرس انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے لیکن یہ آسانی سے نہیں ہوتا، اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق یہ وائرس فوری وبا پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
علاماتابتدائی علامات عام بیماریوں سے مشابہ ہوتی ہیں:
بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور الٹی۔
بعد میں یہ علامات دماغی سوزش (encephalitis) یا شدید سانس کی بیماریوں میں بدل سکتی ہیں۔ شدید کیسز میں دورے پڑ سکتے ہیں، اور کچھ مریض کوما میں جا سکتے ہیں۔
نیپاہ وائرس کی اموات کی شرح 40% سے 75% کے درمیان ہے، اس کا انحصار مقامی صحت کے نظام کی استعداد پر ہے۔ ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں۔
پھیلاؤ کے ذرائعبراہِ راست متاثرہ جانور یا اس کی جسمانی چیزوں سے رابطہ، پھل یا پھل کی مصنوعات، جیسے خام کھجور کا رس، جو متاثرہ چمگادڑوں کے پیشاب یا تھوک سے آلودہ ہوں۔
علاوہ ازیں انسان سے انسان، خاص طور پر قریبی رابطے سے بھی وائرس پھیل سکتا ہے۔
عالمی اور علاقائی اقدامات بھارتبھارتی وزارتِ صحت کے مطابق، دونوں کیسز کو بروقت کنٹرول کیا گیا اور وائرس کی مزید پھیلاؤ کی نگرانی جاری ہے۔
دیگر ممالکسنگاپور، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور ملائیشیا نے ہوائی اڈوں پر تھرمل اسکریننگ اور دیگر حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
پاکستانپاکستانی وزارتِ صحت نے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو الرٹ کیا ہے اور وفاقی گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیپاہ وائرس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیپاہ وائرس نیپاہ وائرس کے مطابق
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔