Daily Pakistan:
2026-06-02@22:21:04 GMT

پاکستان کے ہر شہری پر کتنا قرض ہے؟ حیرت انگیز انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

پاکستان کے ہر شہری پر کتنا قرض ہے؟ حیرت انگیز انکشاف

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)گزشتہ مالی سال کے دوران ہر پاکستانی شہری پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج بن گیا ہے۔

 نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سالانہ فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہو گیا۔

عالمی منڈی میں سونے کی اونچی اڑان، پاکستان میں ہوشربا اضافہ متوقع

یوں ایک ہی سال میں ہر شہری پر قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کا تخمینہ ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.

2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قرضے میں اضافے کی بڑی وجوہات بلند شرحِ سود اور زرِ مبادلہ کی قدر میں تبدیلی تھیں۔

دستاویز میں تسلیم کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (FRDL) کے تحت وفاقی حکومت پابند ہے کہ مالی سال کے اختتام پر پارلیمنٹ میں مالی پالیسی بیان پیش کرے۔

ویڈیو: امریکی صدر ٹرمپ کا ’Board of Peace‘ہے کیا؟ پاکستان اس کا حصہ کیوں بنا، اب آگے کیا ہوگا؟

رپورٹ کے مطابق وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، حالانکہ قانون کے تحت اس کی زیادہ سے زیادہ حد 3.5 فیصد مقرر ہے۔ اس طرح حکومت نے قانونی حد سے تقریباً 3 کھرب روپے زائد خسارہ کیا۔

 مزید بتایا گیا کہ مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 67.6 فیصد سے بڑھ کر 70.7 فیصد ہو گیا۔ اسی عرصے میں حکومت نے نئے محکمے قائم کیے، وفاقی کابینہ میں توسیع کی، اور نئی گاڑیاں و فرنیچر خریدے، حالانکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جاتے رہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں وفاقی اخراجات کا بجٹ 18.9 کھرب روپے رکھا گیا تھا، جن میں سے 17.2 کھرب روپے موجودہ اخراجات پر مشتمل تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیے۔

افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا؟ عدالت نادرا حکام پر برہم

ٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں، جو 13 کھرب روپے کے مقررہ ہدف کا 90.5 فیصد بنتی ہیں، تاہم نان ٹیکس آمدن توقعات سے بہتر رہی اور 5.1 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب ترقیاتی اخراجات 1.7 کھرب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 1.4 کھرب روپے رہے، جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ سود کی ادائیگیوں پر 8.8 کھرب روپے خرچ کیے گئے۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: روپے تک پہنچ عوامی قرضہ کھرب روپے مالی سال کے مطابق

پڑھیں:

مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر

اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔

اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔

اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔

مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔

اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان