ٹک ٹاک کے امریکی حصص کی خریداری کے بعد متبادل ایپس کی مقبولیت میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وفادار امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے اکثریتی حصص خریدنے کے بعد پلیٹ فارم کی متبادل ایپس کی مقبولیت میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جب ٹک ٹاک پر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سے متعلق مواد سینسر کرنے کے الزامات سامنے آئے، اس دوران اسکائی لائٹ اور اپ اسکرولڈ جیسی ایپس کی ڈاؤن لوڈز میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔
گذشتہ ہفتے ٹک ٹاک کے امریکی آپریشن کی ملکیت چینی کمپنی بائٹ ڈانس سے امریکی سرمایہ کاروں کے گروہ کو منتقل کی گئی، جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی لیری ایلیسن کر رہے ہیں۔ نئی انتظامیہ پر سینسر شپ کے الزامات کے بعد ٹک ٹاک کے بائیکاٹ کے مطالبات بھی زور پکڑ گئے ہیں۔
مختصر ویڈیو ایپ اپ اسکرولڈ، جو خود کو ٹک ٹاک کا سینسر فری متبادل قرار دیتی ہے، اب ایپل کے ایپ اسٹور میں ٹاپ 10 مفت ایپس کی فہرست میں شامل ہو چکی ہے، جس سے صارفین کے درمیان اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔