Islam Times:
2026-07-24@10:06:35 GMT

ٹرمپ کی دھمکی اور نوری مالکی کا کرارا جواب

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ٹرمپ کی دھمکی اور نوری مالکی کا کرارا جواب

اسلام ٹائمز: لاطینی امریکہ میں، وینزویلا میں براہ راست مداخلت اور کیوبا پر مسلسل دباؤ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ باہر سے مطلوبہ صدر کا تقرر حکومتی رویئے میں تبدیلی کا باعث نہیں بنتا، بلکہ معاشرے میں مزاحمت اور امریکہ مخالف بیانیہ کو تقویت دیتا ہے۔ ملکوں کے اندرونی معاملات میں ٹرمپ کی کھلم کھلا مداخلت امریکی طاقت کی علامت نہیں ہے بلکہ اسکی خارجہ پالیسی میں قانونی جواز کے بحران کی عکاس ہے۔ تذلیل، دھمکیوں اور قوموں کی مرضی کو نظر انداز کرنے پر مبنی پالیسی کو بالآخر عوامی غصے اور سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی کھلی مخالفت نوری المالکی کیلئے ایک بڑی سیاسی رکاوٹ بن سکتی ہے، تاہم عراقی سیاست میں غیر متوقع موڑ آنا کوئی نئی بات نہیں۔ تحریر: فاطمہ حاجی حسینی

رشین ٹوڈے نیٹ ورک کے مطابق عراقی عوام کی ایک بڑی تعداد نے بدھ کے روز بغداد کے گرین زون میں نوری المالکی کی حمایت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد عراق کی نئی حکومت میں نوری المالکی کی بحیثیت وزارت عظمیٰ کی نامزدگی کی حمایت میں جمع ہوئی اور عراق کے داخلی معاملات میں امریکی صدر کے حالیہ بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ مظاہرین نے عراقی پرچم اور نوری المالکی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور مالکی کی امیدواری کی مخالفت کرنے والے ٹرمپ کے بیانات کے خلاف احتجاج کے لیے "اللہ اکبر، امریکہ شیطان عظیم" کے نعرے لگا رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق کچھ مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر اور امریکی پرچم بھی نذر آتش کئے۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو گھیرے میں لے لیا اور بغداد کے کررادہ سسپنشن پل پر گرین زون میں داخل ہونے والے راستوں کو بند کر دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز سماجی نیٹ ورک ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا "ہم سن رہے ہیں کہ عظیم ملک عراق بہت برا انتخاب کرسکتا ہے اور نوری المالکی کو دوبارہ وزیراعظم مقرر کرسکتا ہے۔" امریکی صدر نے اس مداخلت پسندانہ بیان میں مزید کہا ہے کہ "پچھلی بار جب نوری المالکی اقتدار میں تھے، ملک بڑے پیمانے پر غربت اور افراتفری میں مبتلا ہوا اور ایسا دوبارہ نہیں ہونے دیا جانا چاہیئے۔" ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر واشنگٹن عراق کی مدد کرنا بند کر دے تو اس ملک کو کامیابی، خوشحالی یا آزادی کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔" ٹرمپ کے جواب میں "State of Law" اتحاد کے رہنماء اور عراق کے وزیراعظم کے امیدوار نوری المالکی نے سوشل نیٹ ورک "X" پر ایک پوسٹ میں عراق کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔

یہ بیان کرتے ہوئے کہ "ہم عراق کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں اور اسے خود مختاری کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں، عراق کی وزارت عظمیٰ کے امیدوار نے مزید کہا: "ممالک کے درمیان بات چیت کے لئے بات چیت واحد سیاسی انتخاب ہے، مسلط اور دھمکیوں کی زبان کا سہارا نہیں لینا چاہیئے۔ نوری المالکی نے اس بات پر زور دیا کہ وہ عراقی عوام کے اعلیٰ ترین مفادات کے حصول کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی عراق میں ایران نواز حکومت کے خدشے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن سمجھتا ہے کہ ایران کے زیرِاثر حکومت عراق کے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتی۔ نوری المالکی 2006ء سے 2014ء تک عراق کے وزیرِاعظم رہے اور 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ واحد عراقی وزیرِاعظم ہیں، جنہوں نے دو مدتیں مکمل کیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے عراقی سیاسی حکام کو مستقبل کی حکومت کی تشکیل کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ واشنگٹن نے دھمکی دی ہے کہ اگر مزاحمتی گروپوں کو مستقبل کی عراقی حکومت میں شامل کیا گیا تو وہ پوری عراقی حکومت پر پابندیاں عائد کر دے گا۔ ذرائع کے مطابق، ان پابندیوں کا دائرہ بہت وسیع ہوسکتا ہے اور عراق کی تیل کی آمدنی کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک کے ذریعے بغداد حکومت کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ ایک ایسا اقدام جس سے عراقی معیشت کی اہم شریانیں براہ راست متاثر ہوں گی۔ یہ انتباہات ایسے حالات میں جاری کیے گئے ہیں، جب علاقائی کشیدگی جاری ہے اور امریکہ مزاحمتی گروہوں کو بغداد میں سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں باضابطہ اور موثر کردار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ کا مداخلت پسندانہ انداز، اس کے قلیل مدتی نتائج سے قطع نظر، نشانہ بنائے گئے ممالک پر گہرے سماجی اور نفسیاتی اثرات مرتب کرے گا۔ جمہوری عمل کی صریح توہین اور معاشی سزا کی دھمکی عراقی معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ آپ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اس طرح کے پیغام کا ہدف کچھ سیاسی اشرافیہ کو ڈرانا دھمکاتا ہو، لیکن عوامی سطح پر غم و غصے اور امریکہ پر دیرپا عدم اعتماد کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں یورپ کا تجربہ ایک واضح مثال ہے۔ ٹرمپ کا اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ حقارت آمیز سلوک، نیٹو کے خلاف بار بار کی دھمکیاں اور یورپ پر اقتصادی اور سلامتی کے فیصلے مسلط کرنے کی کوششوں نے نہ صرف یورپی یونین کی یکجہتی کو مضبوط کیا ہے بلکہ یورپی رائے عامہ میں امریکہ سے نفرت اور بیگانگی کے احساس کو بھی تیز کیا ہے۔

لاطینی امریکہ میں، وینزویلا میں براہ راست مداخلت اور کیوبا پر مسلسل دباؤ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ باہر سے مطلوبہ صدر کا تقرر حکومتی رویئے میں تبدیلی کا باعث نہیں بنتا، بلکہ معاشرے میں مزاحمت اور امریکہ مخالف بیانیہ کو تقویت دیتا ہے۔ ملکوں کے اندرونی معاملات میں ٹرمپ کی کھلم کھلا مداخلت امریکی طاقت کی علامت نہیں ہے بلکہ اس کی خارجہ پالیسی میں قانونی جواز کے بحران کی عکاس ہے۔ تذلیل، دھمکیوں اور قوموں کی مرضی کو نظر انداز کرنے پر مبنی پالیسی کو بالآخر عوامی غصے اور سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی کھلی مخالفت نوری المالکی کے لیے ایک بڑی سیاسی رکاوٹ بن سکتی ہے، تاہم عراقی سیاست میں غیر متوقع موڑ آنا کوئی نئی بات نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے اندرونی معاملات میں نوری المالکی کی امریکی صدر اور امریکہ کے مطابق ایک بڑی عراق کے عراق کی ٹرمپ کے ٹرمپ کی کیا ہے ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل