جماعت اسلامی بنگلا دیش کا انتخابی مہم کا آغاز،ووٹ چھیننے کیخلاف مزاحمت کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا (صباح نیوز)بنگلا دیش جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات کے دوران ووٹ چھیننے یا انتخابی عمل میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کے خلاف متحد ہو کر مزاحمت کریں۔انہوں نے کہا کہ شفاف اور آزاد انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں اور عوام کا ووٹ ان کا بنیادی حق ہے، جسے ہر صورت محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے باگرہٹ میں خان جہاں علیؒ کے مزار کے چوراہے سے متصل میدان میں ایک انتخابی جلسے سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اس لیے ووٹرز کو ہوشیار رہنے اور اپنے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے پرامن جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ ہونے کی صورت میں جمہوری نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کریں اور شفاف، غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور جمہوریت مضبوط ہو سکے۔دریں اثنا ستخیرہ گورنمنٹ ہائی اسکول گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئیجماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر شفیق الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نہیں 18 کروڑ عوام کی فتح چاہتے ہیں،عوام کا مال لوٹنے والوں کے پیٹ میں ہاتھ ڈال کر مال واپس نکالیں گے،نوجوانوں کو بے روزگاری الاؤنس نہیں دیں گے انہیں ہنر مند بنائیں گے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل آئی سی سی فیصلے پر نظر ثانی کرے، پڑوسیوں کو دوست رکھنا چاہتے ہیں مگر کسی کو لارڈ بن کر آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ اگر آپ ہمیں مدینہ کے دور کے عدل و انصاف، عوامی حکومت اور گڈ گورننس کا تحفہ دیں گے تو ہم آپ کے تہہ دل سے شکرگزار ہوں گے اور پوری مدت میں اس قرض کو ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے، ہم آپ سے بات کریں گے اور آپ کے مسائل حل کریں گے، اوپر سے کوئی چیز مسلط نہیں کی جائے گی، ہم اس کی ضمانت دے سکتے ہیں، اگر اللہ آپ کی حکومت کو موقع دے تو ہم اس کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ ووٹ تو کوئی پڑھا لکھا چور نہیں کھا سکے گا، کچھ لوگوں نے، عوام کے خادم بن کر ملک کی دولت لوٹی ہے اور 28 لاکھ کروڑ روپے بیرون ملک اسمگل کر دیے ہیں جن کے پاس کوئی دستاویز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اہل وطن سے وعدہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا تو ان کے پیٹ میں ہاتھ ڈال کر عوام کا مال باہر نکالیں گے، اس معاملے میں کوئی معافی نہیں، عوام کا مال لوٹنے والوں کے لیے کوئی رحم یا معافی نہیں، ہم یہاں سخت ہیں، یہاں کوئی سمجھوتا نہیں ہے اور ماضی سے یہ پیغام ہے کہ اب حکومت کیا کرے گی، مستقبل میں یہ کیا ہوگا جب حکومت کرے گی۔ بعد میں دیکھا جائے گا، اب سے کالے دھن پر کوئی ہاتھ نہیں اٹھا سکے گا۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے یہ بھی کہا کہ ہم نوجوانوں کو بے روزگاری الاؤنس نہیں دیں گے، ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں بے روزگاری الاؤنس دینے کا مطلب ان کی توہین ہے، نوجوان عزت کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں اور ملک کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، ہم ان نوجوانوں کو ہنر مند شہری بنائیں گے، انہیں مناسب تعلیم و تربیت دے کر قوم کی تعمیر کے کاریگر بنائیں گے، اور ریاست اپنی ذمے داری پوری کرے گی، پھر ہم کہتے ہیں کہ ہم ان کو عزت دار شہری دیں گے۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ ہم جماعت کی فتح نہیں چاہتے، 18 کروڑ عوام کی جیت چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی ملک کی سب سے زیادہ مظلوم سیاسی جماعت ہے۔ ہمارے بے شمار رہنما اور کارکن مارے گئے اور لاپتا ہوئے، کئی کو ناحق پھانسی دی گئی۔ پارٹی کی رجسٹریشن اور نشان منسوخ کر دیا گیا اور ایک مرحلے پر پارٹی پر پابندی عاید کر دی گئی تھی۔ بہت سے لوگوں کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ ماؤں بہنوں کو ریمانڈ پر لے کر ان پر تشدد کیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش شفیق الرحمن ستخیرہ گورنمنٹ ہائی اسکول گرائونڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شفیق الرحمن نے جماعت اسلامی بنگلا دیش چاہتے ہیں نے کہا کہ انہوں نے عوام کا دیں گے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔