ناکافی ثبوتوں کے باعث سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کو بری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم عبدالرزاق کی بریت کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے اسے بری کر دیا۔ وکیل مجرم نے عدالت کو بتایا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل ایویڈینس مجرم کے خلاف کافی نہیں ہیں، اور ٹرائل کے طریقہ کار میں نقائص موجود ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد حتمی ریمارکس دیے۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: قتل کے مجرم جواد علی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
مجرم عبدالرزاق کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی سماعت کو ایک ہفتے میں مکمل کیا جانا چاہیے، تاہم موجودہ کیس میں گواہوں کے بیانات کے بعد جرح میں مہینے گزر گئے۔
وکیل نے مزید کہا کہ ہائیکورٹس کے رولز موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔
ججز کے ریمارکسجسٹس ہاشم کاکڑ نے وکلا کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وکلا اتنے آزاد نہیں تھے اور ججز پر دباؤ ہوتا تھا، مگر اب وکلا موبائل ریکارڈنگ کے ذریعے گواہوں کے بیانات عدالت میں جمع کروا دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کے دوران وکلا اور ججز کے درمیان رشتہ بدل گیا ہے اور عدالت کے لیے فیصلہ سنانا پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔
مجرم کی سزا اور سابقہ فیصلےٹرائل کورٹ نے مجرم عبدالرزاق کو پہلے سزائے موت سنائی تھی، جبکہ ہائیکورٹ نے بعد ازاں اسے عمر قید کی سزا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ دیا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل ایویڈینس مجرم کے خلاف کافی نہیں ہیں اور اسے بری کر دیا گیا۔
وکیل مجرم کا موقفجسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری نے سماعت کے بعد کہا کہ عدالت سے درخواست ہوگی کہ ٹرائل کے طریقہ کار کو درست کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی مقدمے میں تاخیر اور انصاف میں خلل نہ آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت نے موجودہ کیس میں انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ قتل کا مجرم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ قتل کا مجرم گواہوں کے بیانات سپریم کورٹ کورٹ نے کے بعد کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔