WE News:
2026-06-03@01:31:47 GMT

ناکافی ثبوتوں کے باعث سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کو بری کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ناکافی ثبوتوں کے باعث سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کو بری کر دیا

سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم عبدالرزاق کی بریت کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے اسے بری کر دیا۔ وکیل مجرم نے عدالت کو بتایا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل ایویڈینس مجرم کے خلاف کافی نہیں ہیں، اور ٹرائل کے طریقہ کار میں نقائص موجود ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد حتمی ریمارکس دیے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: قتل کے مجرم جواد علی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

مجرم عبدالرزاق کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی سماعت کو ایک ہفتے میں مکمل کیا جانا چاہیے، تاہم موجودہ کیس میں گواہوں کے بیانات کے بعد جرح میں مہینے گزر گئے۔

وکیل نے مزید کہا کہ ہائیکورٹس کے رولز موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔

ججز کے ریمارکس

جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکلا کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وکلا اتنے آزاد نہیں تھے اور ججز پر دباؤ ہوتا تھا، مگر اب وکلا موبائل ریکارڈنگ کے ذریعے گواہوں کے بیانات عدالت میں جمع کروا دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کے دوران وکلا اور ججز کے درمیان رشتہ بدل گیا ہے اور عدالت کے لیے فیصلہ سنانا پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔

مجرم کی سزا اور سابقہ فیصلے

ٹرائل کورٹ نے مجرم عبدالرزاق کو پہلے سزائے موت سنائی تھی، جبکہ ہائیکورٹ نے بعد ازاں اسے عمر قید کی سزا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ دیا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل ایویڈینس مجرم کے خلاف کافی نہیں ہیں اور اسے بری کر دیا گیا۔

وکیل مجرم کا موقف

جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری نے سماعت کے بعد کہا کہ عدالت سے درخواست ہوگی کہ ٹرائل کے طریقہ کار کو درست کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی مقدمے میں تاخیر اور انصاف میں خلل نہ آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت نے موجودہ کیس میں انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ قتل کا مجرم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ قتل کا مجرم گواہوں کے بیانات سپریم کورٹ کورٹ نے کے بعد کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ