احمد علی بٹ کا جاوید اختر پر تنقیدی موقف: “بھارتیوں سے عزت کی توقع نہیں رکھی جا سکتی”
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان کے نامور اداکار اور کامیڈین احمد علی بٹ نے حال ہی میں اپنے پوڈکاسٹ میں بھارتی مصنف و شاعر جاوید اختر پر تنقید کی اور کہا کہ “آپ بھارتیوں سے عزت کی توقع نہیں رکھ سکتے۔”
احمد علی بٹ ٹیلی ویژن اور فلم کے میدان کے ایک معتبر فنکار ہیں، جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز سِٹ کامز ’جٹ اینڈ بانڈ‘ اور ’انسپکٹر کھوجی‘ سے کیا۔ بعد ازاں وہ بینڈ ’ای پی‘ کے ساتھ گلوکاری میں بھی متحرک رہے۔ آج وہ نہ صرف ایک بہترین اداکار بلکہ کامیاب میزبان کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں، اور ان کے مقبول ڈراموں میں ’جینٹل مین‘ اور ’جھوٹی‘ شامل ہیں۔ انہوں نے فلموں ’جوانی پھر نہیں آنی‘، ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ اور ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
احمد علی بٹ اپنے پوڈکاسٹ میں اکثر قومی اور بین الاقوامی سطح پر وائرل اور متنازع موضوعات پر رائے دیتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے جاوید اختر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے بھارتی فنکار ہیں جنہوں نے اپنی قدر و وقار کھو دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاوید اختر پچھلے سال پاکستان آئے تھے، اور ہمیں نے ان کی بھرپور عزت کی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے پاکستان کے خلاف بیانات دیے۔ احمد علی بٹ نے مزید کہا کہ “میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ بھارتیوں سے عزت کی توقع نہیں رکھ سکتے، اور وہ ہماری عزت کے مستحق بھی نہیں ہیں۔”
اداکار نے واضح کیا کہ وہ ایک پُرسکون شخص ہیں، لیکن جب آپ کسی کو اتنی عزت دیتے ہیں اور اس کے جواب میں نفرت ملتی ہے، تو پھر وہ اس ٹرولنگ کا مستحق ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: احمد علی بٹ جاوید اختر انہوں نے کہا کہ عزت کی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔