نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کے یونٹس غائب، لاکھوں کے اضافی بل موصول WhatsAppFacebookTwitter 0 29 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد: (آئی پی ایس) گزشتہ ماہ کے بلوں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے بڑی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی بڑی تعداد نے جو یونٹس پیدا کر کے نیشنل گرڈ کو فراہم کیے، انہیں بلوں میں کریڈٹ نہیں کیا گیا جس کے باعث سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کو لاکھوں روپے کے بجلی بل موصول ہوئے۔
نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس غائب ہونے کا اعتراف وزارتِ توانائی نے خود ایک جاری کردہ پریس ریلیز میں کیا ہے جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے بھی اپنے وضاحتی بیان میں تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ان نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہیں کیے گئے جن کی پیداوار ان کی دستاویزی صلاحیت سے زیادہ تھی۔

پاور ڈویژن کے مطابق بعض نیٹ میٹرنگ صارفین نے اپنے منظور شدہ لائسنس (ڈی جی کپیسٹی) کے تحت اجازت یافتہ صلاحیت سے زائد نیٹ میٹرنگ سسٹمز نصب کر رکھے ہیں۔

گزشتہ ماہ ایسے بعض صارفین کو نیشنل گرڈ کو فروخت کی گئی بجلی کے یونٹس کا کوئی کریڈٹ فراہم نہیں کیا گیا جو کہ درست طریقہ کار نہیں تھا، اس ضمن میں پاور ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ دنیا کو بتایا کہ بجلی کی مختلف تقسیم کار کمپنیوں میں یہ واقعات سامنے آئے ہیں، تاہم لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) اس میں سرفہرست ہیں۔

اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان دونوں کمپنیوں میں بلنگ سائیکل دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں پہلے ہے، اس لیے یہ معاملہ پہلے رپورٹ ہوا، اس کے علاوہ ان دونوں کمپنیوں میں سولر صارفین کی تعداد بھی دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔

اعداد و شمار کے مطابق لیسکو میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد ایک لاکھ 6 ہزار سے زائد، میپکو میں 83 ہزار سے زائد جبکہ آئیسکو میں نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد 72 ہزار سے زائد ہے، ملک بھر میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی مجموعی تعداد ساڑھے 3 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے، اس تمام صورتحال پر وزارتِ توانائی نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کی ہدایات کے تحت نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہ کرنے کے معاملے کا نوٹس لیا اور اس پر نظرثانی کے احکامات جاری کیے۔

ترجمان نے بتایا کہ کچھ نیٹ میٹرنگ صارفین نے اپنے لائسنس کے تحت منظور شدہ صلاحیت سے زیادہ نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب کئے ہیں اور گزشتہ ماہ ان میں سے بعض صارفین کو گرڈ کو فروخت کی گئی پوری بجلی کا کریڈٹ نہیں دیا گیا، تاہم پاور ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ یہ طریقہ کار درست نہیں تھا اور آئیسکو نے بھی اس معاملے کو تسلیم کیا ہے۔

اس حوالے سے تمام ڈسکوز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ جن صارفین کے بلوں میں نیٹ میٹرنگ کے یونٹس کریڈٹ نہیں ہوئے، ان کیلئے متعلقہ ایڈجسٹمنٹ اگلے بلنگ سائیکل میں کی جائے، نظرثانی شدہ ہدایات کے تحت صرف وہی یونٹس کریڈٹ نہیں ہوں گے جو منظور شدہ صلاحیت سے زائد ہوں گے جبکہ منظور شدہ صلاحیت کے مطابق نیشنل گرڈ کو فراہم کئے گئے یونٹس کا مکمل کریڈٹ دیا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے: عباس عراقچی ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے: عباس عراقچی پاکستان میں نیپا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کا خدشہ، الرٹ جاری حماس کا غزہ کی حکومت فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان، رفح بارڈر فوری کھولنے کا مطالبہ پاکستان کی مسلح افواج ہر خطرے کے خلاف مکمل طور پر تیار ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سکھر، گڈو بیراج مرمتی منصوبہ: نیب سکھر نے مبینہ تحقیقات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا پاکستان اوور سیز ایمپلائمنٹ ایسو سی ایشن کے چیئرمین سید رحمت علی شاہ اور رہنما شکیل عباسی کی سعودی قونصل ڈاکٹر حمد بن ماہر.

.. TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: صارفین کے یونٹس نیٹ میٹرنگ

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف