وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا ،طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-01-7
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک ) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ وادی تیرہ میں آپریشن نہیں ہورہا صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی ہورہی ہے، اگر کوئی آپریشن ہوا تو اعلانیہ ہوگا اسے چھپائیں گے کیوں؟اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وادی تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا اگرکوئی آپریشن کیا تو سب کو بتا کر کریں گے وہاں صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ پر پی ٹی آئی نے منفی سیاست شروع کردی، پی ٹی آئی والے وادی تیراہ میں آپریشن کرنا تو چاہتے ہیں لیکن چھپ رہے ہیں، وفاقی حکومت کو کوئی آپریشن کرنا ہوتا تو چھپاتے کیوں؟ تیراہ میں جب آپریشن ہوگا اعلانیہ ہوگا۔طلال چودھری کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ کے لوگوں کو فراہم کی گئی امداد میں خورد برد کی گئی، کوہستان مالیاتی اسکینڈل سب کے سامنے ہے، چار ارب روپے کی بدعنوانی کی گئی اور اب یہ لوگ سیاسی بیانیہ بنانے اور کرپشن چھپانے کے لیے بہانے تراشتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کوئی ا پریشن وادی تیراہ کہ وادی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔