وادی تیراہ مسئلہ سیاسی نعرہ بازی نہیں بلکہ فوری حل کا متقاضی ہے، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وادی تیراہ متاثرین کا مسئلہ سیاسی نعرہ بازی نہیں بلکہ فوری حل کا متقاضی ہے۔
اپوزیشن لیڈر خیبر پختونخوا ڈاکٹر عباداللّٰہ خان کے ہمراہ گورنر خیبر پختونخوا نے دورہ خیبر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کی۔
اسلام آباد کی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دےد یا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہر معاملے کو سیاست کی نذر کر رہی ہے، ایپکس کمیٹی اجلاس کے لیے بارہا کہا مگر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آئینی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر عباداللّٰہ خان کا کہنا تھا کہ 100 دن میں وزیراعلیٰ صرف 10 دن دفتر آئے۔ صوبہ بدترین انتظامی بحران کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 90 فیصد علاقوں میں عوام خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، امن و امان اور تیراہ متاثرین کے لیے فوری ایپکس کمیٹی اجلاس بلایا جائے۔
اسٹریٹ موومنٹس پر کروڑوں روپے سرکاری وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔ سوات بند ہے، مگر وزیرِاعلیٰ نے صرف سیاسی تقریر کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔