کراچی سے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں۔چیئرمین نیب
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ+سٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ کراچی سے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام چل رہا ہے اور جلد بہت کچھ اچھا ہونے والا ہے۔ کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے کہا کہ کراچی کے تاجروں اور کاروباری برادری کی پریشانیوں اور چیلنجز کا ادراک ہے جہاں اب کاروباری اعتماد بہت اچھا نہیں رہا۔ ٹیکسوں کے مسائل ہیں، سکیورٹی بہت آئیڈیل نہیں ہے، یہ معاملات میرے نہیں لیکن یہ اعتماد پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ چیئرمین نیب نے تاجر برادری کو یقین دہانی کرائی کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ آپکے معاملات حل کرائیں گے، تمام منفی چیزوں کے باوجود کچھ بہت اچھی چیزیں ہورہی ہیں۔ ملک کی 25 کروڑ آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہیں۔ پاکستان خوراک پیدا کرنے والا امیر ملک ہے۔ زراعت ہماری ضرورت پوری کرلیتا ہے تاہم ایندھن اور کھانے کا تیل منگوانا پڑتا ہے۔ پاکستان معدنیات کا پاور ہاو س ہے۔ مئی کے بعد پاکستان کی دنیا میں نئی شناخت سامنے آئی ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ حکومت کا ظرف ہے کہ آئی ایم ایف سے مذکرات کی مشکل بتاتی نہیں ہے، مگر اگلے دو سال بہت اہم ہیں جس میں ہمارے لئے مواقع بڑھیں گے۔ آئی ایم ایف سے نکلنے کا قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ ہم تاجروں کو وسائل فراہم کر کے کراچی کا نیا چہرہ سامنے لائیں گے۔ وسط اپریل اور مئی تک آپکے ریزرو 40 سے 48 ارب ڈالر ہونگے۔ بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام کررہے ہیں، تاجر لوگوں کو نوکریوں سے نہ نکالیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیئرمین نیب
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔