Nawaiwaqt:
2026-06-02@23:57:05 GMT

 کراچی سے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں۔چیئرمین نیب

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

 کراچی سے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں۔چیئرمین نیب

کراچی (نوائے وقت رپورٹ+سٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ کراچی سے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام چل رہا ہے اور جلد بہت کچھ اچھا ہونے والا ہے۔ کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے کہا کہ کراچی کے تاجروں اور کاروباری برادری کی پریشانیوں اور چیلنجز کا ادراک ہے جہاں اب کاروباری اعتماد بہت اچھا نہیں رہا۔ ٹیکسوں کے مسائل ہیں، سکیورٹی بہت آئیڈیل نہیں ہے، یہ معاملات میرے نہیں لیکن یہ اعتماد پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ چیئرمین نیب نے تاجر برادری کو یقین دہانی کرائی کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ آپکے معاملات حل کرائیں گے، تمام منفی چیزوں کے باوجود کچھ بہت اچھی چیزیں ہورہی ہیں۔ ملک کی 25 کروڑ آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہیں۔ پاکستان خوراک پیدا کرنے والا امیر ملک ہے۔ زراعت ہماری ضرورت پوری کرلیتا ہے تاہم ایندھن اور کھانے کا تیل منگوانا پڑتا ہے۔ پاکستان معدنیات کا پاور ہاو س ہے۔ مئی کے بعد پاکستان کی دنیا میں نئی شناخت سامنے آئی ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ حکومت کا ظرف ہے کہ آئی ایم ایف سے مذکرات کی مشکل بتاتی نہیں ہے، مگر اگلے دو سال بہت اہم ہیں جس میں ہمارے لئے مواقع بڑھیں گے۔ آئی ایم ایف سے نکلنے کا قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ ہم تاجروں کو وسائل فراہم کر کے کراچی کا نیا چہرہ سامنے لائیں گے۔ وسط اپریل اور مئی تک آپکے ریزرو 40 سے 48 ارب ڈالر ہونگے۔ بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام کررہے ہیں، تاجر لوگوں کو نوکریوں سے نہ نکالیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: چیئرمین نیب

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا