فلم ہیرا پھیری 3 میں بابو راؤ کا کردار شامل نہیں؟ پریش راول کا اہم انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بھارت کے نامور اداکار پریس راول نے فلم ’پیرا پھیری 3‘ کے حوالے سے اکشے کمار اور فلم میکرز سے اختلافات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بابو راؤ کے بغیر اس فلم کو بنانے کا سوچ رہے ہیں تو یہ بہت بڑی ناکامی ہوگی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک انٹریو کے دوران تمام تر اختلافات کے باوجود سینئر بھارتی اداکار پریش راول نے تصدیق کی ہے کہ یہ فلم ضرور بنے گی، ایک بار اکشے کمار اور فلم کے میکرز اپنے اختلافات حل کر لیں تو ’ہیرا پھیری 3‘ ضرور بنے گی۔
یاد رہے کہ ہیرا پھیری کے ماضی کی دو فلمیں سپر ہٹ ثابت ہوئے ہیں جس میں اکشے کمار، سنیل شیٹی اور پریش راول نے مرکزی کردار ادا کیا ہے جب کہ پریش راول کا کردار (بابو راؤ) اس فلم میں سب سے دلچسپ کردار رہا ہے۔
تاہم، جب سے اس فلم کے تیسرے حصے کا اعلان ہوا ہے، تب سے یہ تنازعات کی زد میں ہے۔
نیشنل ایوارڈ یافتہ اداکار نے تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلم یقیناً بنے گی، فلم کی تیاری میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے اداکار نے کہا کہ یہ معاملہ اکشے کمار اور فلم کے پروڈیوسرز کے درمیان ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔
مزید پڑھیںبالی ووڈ فلم ’’ہیرا پھیری‘‘ سے متعلق ڈائریکٹر نے حیرت انگیز انکشاف کردیا
پریش راول نے کہا کہ یہ سب جو درمیان میں شور مچا کہ اکشے کمار نے مجھ پر 25 کروڑ روپے کا مقدمہ کر دیا ہے، وہ سب ٹھیک ہے، تاہم اگر پروڈیوسر اور اکشے کمار کے درمیان تکنیکی معاملہ حل ہو جاتا ہے تو وہ فلم سائن کر لیں گے۔
پدم شری ایوارڈ یافتہ اداکار نے واضح کیا کہ ان کا مشہور کردار ’بابو راؤ‘ فلم کا لازمی حصہ ہوگا، لیکن میں سچ کہہ رہا ہوں، چاہے یہ بات کچھ زیادہ ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ بابو راؤ کے بغیر ہیر پھیر بنانے کا سوچ رہے ہیں تو یہ ایک بڑی ناکامی ثابت ہوگی۔
پریش راول نے مزید کہا کہ تو بات بالکل سادہ ہے، اگر ان دونوں کے درمیان مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو میں پیپرز سائن کر دوں گا، اس میں میرا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں، لیکن فلم 100 فیصد بنے گی۔
دوسری جانب، ہدایتکار پریہ درشن نے واضح کیا ہے کہ جب تک انہیں مکمل کہانی سمجھ نہ آ جائے، وہ تیسرے حصے پر کام شروع نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ میں تیسرا حصہ بنا رہا ہوں یا نہیں، جب تک مجھے ایسی فلم نہ مل جائے جو پچھلی فلموں کے ساتھ انصاف کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پریش راول نے ہیرا پھیری اکشے کمار بنے گی کہا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔