Juraat:
2026-06-02@20:46:38 GMT

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

حمیداللہ بھٹی

بالادستی کے لیے مداخلت کا آغاز ہونے سے کرکٹ جیسے مقبولِ عام کھیل میں صحت مندانہ مقابلے کے رجحان میں کمی آرہی ہے، اِس کی وجہ کھیل میں بھارتی سازشیں ،تنگ نظری اور تعصب ہے جو کہ کرکٹ شائقین سے سراسرزیادتی اور دشمنی کے مترادف ہے۔ ورلڈ کپ جیسے ایونٹ کا شائقین کوشدت سے انتظار رہتا ہے مگر حالیہ چند جانبدارانہ فیصلوں سے اہمیت میں کمی آسکتی ہے۔ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش سے بھی بھارتی تعلقات آج کل کم تر درجے پر ہیں، حالانکہ بنگلہ دیش نے ماضی میں ہمیشہ اُس کی طرفداری کی مگر بنگلہ دیشی کھلاڑی پر پابندی لگا کر بھارت نے اپنی اصلیت دکھائی ہے کہ اُسے کھیل کے اصول سے زیادہ اپنی نفرت پر مبنی سیاست زیادہ عزیر ہے اوربنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت ناپسندہے۔ بنگلہ دیشی ٹیم کوبھارت آنے کی صورت میں حکومتی سرپرستی میں آرایس ایس نے جب دھمکیاں دینا شروع کر دیں تو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے احتجاج کیا اور کھلاڑیوں کی سیکورٹی خدشات پر ٹیم کوبھارت بھیجنے سے انکار کر دیا،جس پر ایسا لگا جیسے بھارت نے سُکھ کا سانس لیا ہو،جس کی تائید آئی سی سی کی جانبداری ہے۔ بھارت کے شدت پسند ہندو ہر وقت دنگے وفساد کی کوشش کرتے ہیں جہاں موقع ملے یہ اپنے اندر کی غلاظت ظاہرکردیتے ہیں۔ اگر بنگلہ دیشی کھلاڑی کی شمولیت پر اعتراض نہ کیا جاتا توبدمزگی جنم نہ لیتی مگر شدت پسند ہندوئوں کوسمجھانے کی بجائے بھارتی حکومت بھی جذبات میں بہہ گئی اور حالات اِس نہج پر جا پہنچے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اصولی موقف پر ڈٹ گیا۔
بھارت کی سوچ بڑی محدود ہے۔ اِس کی ترجیحات میں انسانیت کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ مذہبی تفریق مقدس اور اہم ہے۔ اسی بناپر اقلیتیں عدمِ تحفظ کا شکار ہے اور کھلاڑی بھی بھارت جاتے ہوئے بے چین رہتے ہیں ۔ظاہر ہے ہر حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کا تحفظ ہوتی ہے جبکہ کھلاڑی تو عام شہریوں سے بھی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ دور کیوں جائیں گزشتہ برس بھارت نے جو حماقتیں کیں وہ کرکٹ شائقین کیسے بھول سکتے ہیں ۔اول پاکستان میں کھیلنے سے انکار کردیا اور جب دونوں ممالک کادبئی میں مقابلہ ہوا تو نہ صرف بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوںسے معانقہ نہ کیا بلکہ بطورپی سی بی چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی وصول کر نے سے بھی انکار کردیا۔ ایسے رعونت وتکبرکی کرکٹ تاریخ میں مثال نہیں ملتی مگر نفرت ،تنگ نظری اور تعصب جیسی بیماریوں میں مبتلا بھارتی حکومت اور معاشرے نے اپنے کھلاڑیوں کی سوچ کو بھی پراگندہ کر دیا ہے اور حالات اِس نہج پر جا پہنچے ہیں کہ کرکٹ کھیل میں پاکستان کی طرح دیگر ممالک کوبھی تنگ کیا جانے لگا ہے اور جو ملک بھارت کو پسند نہ ہواُسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے بنگلہ دیشی ایسی ہی سوچ کی تازہ مثال ہے لیکن اِس فیصلے کوہدفِ تنقید بناتے ہوئے جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گراہم اسمتھ،آسٹریلین سابق فاسٹ بائولر جیسن گلسپی نے آڑے ہاتھوں لیا اور نوجوت سنگھ سدھوجیسے سابق بھارتی کپتان نے بھی کرکٹ میں سیاسی عمل دخل پر تنقید کی ہے۔ اصول اور طاقت کے انتخاب میں اصول کے حق میں یہ آوازیں بلند ہونا بنگلہ دیش کی فتح ہے۔
کسی اور ملک میں مقابلے کرانے کے بنگلہ دیشی مطالبے پر ووٹنگ کے عمل میں افغانستان کی بھارتی حمایت سے ثابت ہو گیا کہ وہ بھارت کی پراکسی ہے ۔قیامِ پاکستان کے وقت بھی جب اقوامِ متحدہ میں نوزائیدہ مملکت کوتسلیم کرنے کی قرارداد پیش ہوئی تو افغانستان وہ اولین ملک تھا جس نے پاکستان کے خلاف ووٹ دے کر ثابت کیا کہ اچھی ہمسائیگی یا امن نام کے کسی لفظ سے اُسے کوئی سروکار نہیں۔ اب بھی افغان بورڈ کوجب معلوم تھا کہ اُس کا مکمل ووٹ شمار نہیں ہوگا تو جگ ہنسائی سے بچنے کے لیے غیر جانبدار رہ کر عزت بچا سکتا تھا لیکن اُس نے بے عزت ہونے کو ترجیح دی تاکہ خودکو بھارت کا پجاری ثابت کر سکے۔ مگر پاکستان نے بنگلہ دیشی مطالبے کے حق میں ووٹ دے کر واضح کردیا ہے کہ اُسے بنگلہ دیشی بھائیوں کے حق پر ہونے کا ادراک ہے۔ اِس لیے نفع ونقصان سے بالاتر ہوکر حمایت کردی جواب میں بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کا تشکر واضح کرتا ہے کہ پاکستانی فیصلے کے مثبت نتائج صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اِن کااثر خطے کی دوستیوں اور حالات پر بھی ہوگا۔اِس طرح پاک بنگلہ کے بہتر ہوتے تعلقات میں مزید گرمجوشی آئے گی جبکہ نیپال اور سری لنکا کی طرح بنگلہ دیش میں بھارتی رسوخ میں کمی اب نوشتہ دیوار ہے۔
آئی سی سی کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ جانبدارانہ ہے اور صاف عیاں ہے کہ یہ فیصلہ بھارتی دبائو میں کیا گیا ہے کیونکہ جب پاکستان میں کھیلنے سے بھارتی انکار پر مقابلے دوسری جگہ منتقل ہوسکتے ہیں تو بنگلہ دیشی مطالبے پر آئی سی سی کا ڈٹ جانا اور مطالبے کے جواز میںمقابلوں سے ہی نکال باہر کرناحیران کُن ہے۔ یہ فیصلہ اِس اِدارے میں بھارتی بالادستی کی وجہ سے ہواہے۔ اب یہاں پاکستان کا امتحان ہے کہ وہ بھارتیوں کا دماغ ٹھکانے لگائے اور نتیجہ خیز چالیں چلے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اعتراف کیا ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے ۔اِس لیے حکومت سے دریافت کریں گے کہ ورلڈ کپ میں جانا ہے یا نہیں ۔لیکن مقابلے میں نہ جانے کا فیصلہ توشاید اِتنا سادہ اورآسان نہیں ہو،اِس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں تو شرکت کرے لیکن بطور احتجاج بھارت سے کھیلنے سے انکار کردے کیونکہ شائقین کی توجہ کااصل مرکز پاک بھارت ٹاکرا ہی ہوتا ہے، دیگر مقابلے اِتنی توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر پاکستان یہ فیصلہ ہی کرلے تو آئی سی سی کی آمدنی متاثرہونا یقینی ہے اور آئندہ شایدآئی سی سی کسی ٹیم کو نکالنے کا فیصلہ اتنی جلدبازی میں کرنے سے احتیاط کرے ۔
محسن نقوی پلان اے بی اور سی کی جب بات کرتے ہیں تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ باتیں کرنے کے ساتھ کچھ عملی طورپر بھی کیا جائے اور متبادل پر غوروفکر کیا جائے کیونکہ بھارت جیسا شاطر ،مکاراور تنگ نظر ملک مستقبل میں بھی آئی سی سی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے بازنہیں آئے گا۔اِس لیے اگر مختلف ممالک سے دوسرے یا تیسرے درجے کی ٹیمیں بلا لی جائیں تو نہ صرف کھیل کے میدان آباد ہوں گے اور روزگارکے مواقع بڑھیں گے بلکہ پی سی بی کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا شائقین کی الگ توجہ حاصل ہوگی۔ ایسے حالات میں بنگلہ دیش جیسے ممالک کو مدعوکرنابہت آسان ہے کیونکہ انھیں آمادہ کرنے کے لیے خاص محنت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ آئی سی سی کو بھارتی چنگل سے نکالنے کے لیے کیسے مہارت و صلاحیت کامظاہرہ کرنا ہے؟ جب پاکستان کو بھارت نے خود آگے بڑھنے کا موقع دے دیا ہے تو دانش اسی میں ہے کہ دستیاب موقع سے فائدہ اُٹھایاجائے اور بچھڑے بنگلہ دیشی بھائیوں کو گلے لگاکر اشک شوئی کریں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: آئی سی سی کی بنگلہ دیشی بنگلہ دیش انکار کر بھارت نے ورلڈ کپ ا س لیے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:

حربیار مری کے نام

ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار

کالی رات کا خوف ہے حربیار

پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر

ایک آگ کی طرح ہے حربیار

اسکو خبر ہے اس راستہ کا

آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار

حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے

ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار

حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان