بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
حمیداللہ بھٹی
بالادستی کے لیے مداخلت کا آغاز ہونے سے کرکٹ جیسے مقبولِ عام کھیل میں صحت مندانہ مقابلے کے رجحان میں کمی آرہی ہے، اِس کی وجہ کھیل میں بھارتی سازشیں ،تنگ نظری اور تعصب ہے جو کہ کرکٹ شائقین سے سراسرزیادتی اور دشمنی کے مترادف ہے۔ ورلڈ کپ جیسے ایونٹ کا شائقین کوشدت سے انتظار رہتا ہے مگر حالیہ چند جانبدارانہ فیصلوں سے اہمیت میں کمی آسکتی ہے۔ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش سے بھی بھارتی تعلقات آج کل کم تر درجے پر ہیں، حالانکہ بنگلہ دیش نے ماضی میں ہمیشہ اُس کی طرفداری کی مگر بنگلہ دیشی کھلاڑی پر پابندی لگا کر بھارت نے اپنی اصلیت دکھائی ہے کہ اُسے کھیل کے اصول سے زیادہ اپنی نفرت پر مبنی سیاست زیادہ عزیر ہے اوربنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت ناپسندہے۔ بنگلہ دیشی ٹیم کوبھارت آنے کی صورت میں حکومتی سرپرستی میں آرایس ایس نے جب دھمکیاں دینا شروع کر دیں تو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے احتجاج کیا اور کھلاڑیوں کی سیکورٹی خدشات پر ٹیم کوبھارت بھیجنے سے انکار کر دیا،جس پر ایسا لگا جیسے بھارت نے سُکھ کا سانس لیا ہو،جس کی تائید آئی سی سی کی جانبداری ہے۔ بھارت کے شدت پسند ہندو ہر وقت دنگے وفساد کی کوشش کرتے ہیں جہاں موقع ملے یہ اپنے اندر کی غلاظت ظاہرکردیتے ہیں۔ اگر بنگلہ دیشی کھلاڑی کی شمولیت پر اعتراض نہ کیا جاتا توبدمزگی جنم نہ لیتی مگر شدت پسند ہندوئوں کوسمجھانے کی بجائے بھارتی حکومت بھی جذبات میں بہہ گئی اور حالات اِس نہج پر جا پہنچے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اصولی موقف پر ڈٹ گیا۔
بھارت کی سوچ بڑی محدود ہے۔ اِس کی ترجیحات میں انسانیت کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ مذہبی تفریق مقدس اور اہم ہے۔ اسی بناپر اقلیتیں عدمِ تحفظ کا شکار ہے اور کھلاڑی بھی بھارت جاتے ہوئے بے چین رہتے ہیں ۔ظاہر ہے ہر حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کا تحفظ ہوتی ہے جبکہ کھلاڑی تو عام شہریوں سے بھی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ دور کیوں جائیں گزشتہ برس بھارت نے جو حماقتیں کیں وہ کرکٹ شائقین کیسے بھول سکتے ہیں ۔اول پاکستان میں کھیلنے سے انکار کردیا اور جب دونوں ممالک کادبئی میں مقابلہ ہوا تو نہ صرف بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوںسے معانقہ نہ کیا بلکہ بطورپی سی بی چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی وصول کر نے سے بھی انکار کردیا۔ ایسے رعونت وتکبرکی کرکٹ تاریخ میں مثال نہیں ملتی مگر نفرت ،تنگ نظری اور تعصب جیسی بیماریوں میں مبتلا بھارتی حکومت اور معاشرے نے اپنے کھلاڑیوں کی سوچ کو بھی پراگندہ کر دیا ہے اور حالات اِس نہج پر جا پہنچے ہیں کہ کرکٹ کھیل میں پاکستان کی طرح دیگر ممالک کوبھی تنگ کیا جانے لگا ہے اور جو ملک بھارت کو پسند نہ ہواُسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے بنگلہ دیشی ایسی ہی سوچ کی تازہ مثال ہے لیکن اِس فیصلے کوہدفِ تنقید بناتے ہوئے جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گراہم اسمتھ،آسٹریلین سابق فاسٹ بائولر جیسن گلسپی نے آڑے ہاتھوں لیا اور نوجوت سنگھ سدھوجیسے سابق بھارتی کپتان نے بھی کرکٹ میں سیاسی عمل دخل پر تنقید کی ہے۔ اصول اور طاقت کے انتخاب میں اصول کے حق میں یہ آوازیں بلند ہونا بنگلہ دیش کی فتح ہے۔
کسی اور ملک میں مقابلے کرانے کے بنگلہ دیشی مطالبے پر ووٹنگ کے عمل میں افغانستان کی بھارتی حمایت سے ثابت ہو گیا کہ وہ بھارت کی پراکسی ہے ۔قیامِ پاکستان کے وقت بھی جب اقوامِ متحدہ میں نوزائیدہ مملکت کوتسلیم کرنے کی قرارداد پیش ہوئی تو افغانستان وہ اولین ملک تھا جس نے پاکستان کے خلاف ووٹ دے کر ثابت کیا کہ اچھی ہمسائیگی یا امن نام کے کسی لفظ سے اُسے کوئی سروکار نہیں۔ اب بھی افغان بورڈ کوجب معلوم تھا کہ اُس کا مکمل ووٹ شمار نہیں ہوگا تو جگ ہنسائی سے بچنے کے لیے غیر جانبدار رہ کر عزت بچا سکتا تھا لیکن اُس نے بے عزت ہونے کو ترجیح دی تاکہ خودکو بھارت کا پجاری ثابت کر سکے۔ مگر پاکستان نے بنگلہ دیشی مطالبے کے حق میں ووٹ دے کر واضح کردیا ہے کہ اُسے بنگلہ دیشی بھائیوں کے حق پر ہونے کا ادراک ہے۔ اِس لیے نفع ونقصان سے بالاتر ہوکر حمایت کردی جواب میں بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کا تشکر واضح کرتا ہے کہ پاکستانی فیصلے کے مثبت نتائج صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اِن کااثر خطے کی دوستیوں اور حالات پر بھی ہوگا۔اِس طرح پاک بنگلہ کے بہتر ہوتے تعلقات میں مزید گرمجوشی آئے گی جبکہ نیپال اور سری لنکا کی طرح بنگلہ دیش میں بھارتی رسوخ میں کمی اب نوشتہ دیوار ہے۔
آئی سی سی کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ جانبدارانہ ہے اور صاف عیاں ہے کہ یہ فیصلہ بھارتی دبائو میں کیا گیا ہے کیونکہ جب پاکستان میں کھیلنے سے بھارتی انکار پر مقابلے دوسری جگہ منتقل ہوسکتے ہیں تو بنگلہ دیشی مطالبے پر آئی سی سی کا ڈٹ جانا اور مطالبے کے جواز میںمقابلوں سے ہی نکال باہر کرناحیران کُن ہے۔ یہ فیصلہ اِس اِدارے میں بھارتی بالادستی کی وجہ سے ہواہے۔ اب یہاں پاکستان کا امتحان ہے کہ وہ بھارتیوں کا دماغ ٹھکانے لگائے اور نتیجہ خیز چالیں چلے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اعتراف کیا ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے ۔اِس لیے حکومت سے دریافت کریں گے کہ ورلڈ کپ میں جانا ہے یا نہیں ۔لیکن مقابلے میں نہ جانے کا فیصلہ توشاید اِتنا سادہ اورآسان نہیں ہو،اِس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں تو شرکت کرے لیکن بطور احتجاج بھارت سے کھیلنے سے انکار کردے کیونکہ شائقین کی توجہ کااصل مرکز پاک بھارت ٹاکرا ہی ہوتا ہے، دیگر مقابلے اِتنی توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر پاکستان یہ فیصلہ ہی کرلے تو آئی سی سی کی آمدنی متاثرہونا یقینی ہے اور آئندہ شایدآئی سی سی کسی ٹیم کو نکالنے کا فیصلہ اتنی جلدبازی میں کرنے سے احتیاط کرے ۔
محسن نقوی پلان اے بی اور سی کی جب بات کرتے ہیں تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ باتیں کرنے کے ساتھ کچھ عملی طورپر بھی کیا جائے اور متبادل پر غوروفکر کیا جائے کیونکہ بھارت جیسا شاطر ،مکاراور تنگ نظر ملک مستقبل میں بھی آئی سی سی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے بازنہیں آئے گا۔اِس لیے اگر مختلف ممالک سے دوسرے یا تیسرے درجے کی ٹیمیں بلا لی جائیں تو نہ صرف کھیل کے میدان آباد ہوں گے اور روزگارکے مواقع بڑھیں گے بلکہ پی سی بی کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا شائقین کی الگ توجہ حاصل ہوگی۔ ایسے حالات میں بنگلہ دیش جیسے ممالک کو مدعوکرنابہت آسان ہے کیونکہ انھیں آمادہ کرنے کے لیے خاص محنت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ آئی سی سی کو بھارتی چنگل سے نکالنے کے لیے کیسے مہارت و صلاحیت کامظاہرہ کرنا ہے؟ جب پاکستان کو بھارت نے خود آگے بڑھنے کا موقع دے دیا ہے تو دانش اسی میں ہے کہ دستیاب موقع سے فائدہ اُٹھایاجائے اور بچھڑے بنگلہ دیشی بھائیوں کو گلے لگاکر اشک شوئی کریں۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: آئی سی سی کی بنگلہ دیشی بنگلہ دیش انکار کر بھارت نے ورلڈ کپ ا س لیے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔