بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے شیرپور میں حالیہ تشدد کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک جماعت اسلامی کے سیاسی کارکن ہلاک ہوا۔

حکومت نے واضح کیا کہ سیاسی تشدد میں ہونے والا کوئی بھی جانی نقصان ناقابل قبول اور انتہائی افسوسناک ہے۔

قومی انتخابات محض دو ہفتے دور ہیں، اس موقع پر عبوری حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں، بشمول بی این پی اور جماعت اسلامی، سے اپیل کی کہ وہ

اپنے حامیوں میں ضبط و تحمل کو فروغ دیں، تشدد، دھمکی اور خونریزی سے اجتناب کریں، اور انتخابی عمل میں ذمہ دار قیادت کا مظاہرہ کریں۔

پولیس تحقیقات اور سیکیورٹی اقدامات

دوسری طرف شیرپور میں ہونے والے جھڑپوں اور قتل کی پولیس تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام نے وعدہ کیا ہے کہ تمام ملوث افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ علاقے میں سیکیورٹی کو بھی مضبوط کیا گیا ہے تاکہ انتخابات کے دوران امن قائم رہے۔

یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کے دوران تصادم، جماعتِ اسلامی کے سینیئر رہنما جاں بحق

عوام اور امیدواروں کے لیے اپیل

حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور انتخابی مہم کے شرکاء سے کہا کہ وہ امن قائم رکھیں، قانون کی پاسداری کریں، ووٹروں کے ساتھ پرامن، تعمیری اور جمہوری انداز میں رابطہ کریں۔ حکومت نے کہا کہ ملک کا مستقبل امن، نظم و ضبط اور جمہوری رویے پر منحصر ہے۔ عبوری حکومت نے دوبارہ عزم کیا کہ وہ پرامن، آزاد اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائے گی، اور کسی بھی قسم کے تشدد یا دھونس کو برداشت نہیں کرے گی۔

بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کے دوران تصادم، جماعتِ اسلامی کے سینیئر رہنما جاں بحق

یاد رہے کہ گزشتہ روز بنگلہ دیش کے ضلع شیرپور میں انتخابی سرگرمی کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان کے درمیان ہونے والے تصادم میں جماعتِ اسلامی کے ایک سینیئر رہنما شدید زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد ملک میں انتخابات سے قبل بڑھتے سیاسی تشدد پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

وی نیوز کے مطابق جماعتِ اسلامی کے مقامی رہنما مولانا رضا الکریم ضلع شیرپور کے علاقے ’جھینائی گاتی‘ میں پیش آنے والے تصادم کے دوران شدید زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے شیرپور-3 کے حلقے سے امیدواروں کے انتخابی منشور پڑھنے کی تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں نشستوں کے معاملے پر اختلافات جھگڑے میں تبدیل ہو گئے۔

مولانا رضاالکریم جماعتِ اسلامی کی ’سری بردی اپازلا شاخ‘ کے سیکریٹری تھے اور فتح پور فاضل مدرسہ میں عربی کے لیکچرار بھی تھے۔ انہیں تشویشناک حالت میں میمن سنگھ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق انہیں رات 9 بج کر 35 منٹ پر اسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دیا گیا، جس کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش: دہائیوں بعد جماعت اسلامی ایوان قتدار کے بہت قریب پہنچ گئی، الجزیرہ کی رپورٹ

عینی شاہدین اور مقامی حکام کے مطابق تقریب کے دوران بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان اگلی نشستوں پر بیٹھنے کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی، جو جلد ہی پرتشدد تصادم میں بدل گئی۔ اس دوران سینکڑوں کرسیاں اور کئی موٹر سائیکلیں توڑ دی گئیں جبکہ دونوں جماعتوں کے کم از کم 30 کارکن زخمی ہوئے۔

جماعتِ اسلامی کے شیرپور-3 سے امیدوار نورالزمان (بادل) نے فیس بک پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ حملہ بی این پی کے کارکنوں نے کیا، جس میں جماعتِ اسلامی کے 50 سے زائد کارکن زخمی ہوئے، جبکہ 3 کی حالت تشویشناک ہے۔

جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پروار نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی۔ اے بی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی واقعے کو منظم سیاسی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ادھر  جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم، اسلامی چھاترا شبِر نے واقعے کے خلاف ڈھاکا یونیورسٹی میں رات گئے احتجاج کیا اور مولانا رضاالکریم کے قتل پر انصاف کا مطالبہ کیا۔

یہ واقعہ بنگلہ دیش میں آئندہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی اور انتخابی تشدد کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی عبوری حکومت اور جماعت بنگلہ دیش اسلامی کے بی این پی کے مطابق کے دوران حکومت نے

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی