بنگلہ دیش: بی این پی اور جماعت اسلامی کے کارکنوں میں تصادم، عبوری حکومت کا معاملے کی تحقیقات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے شیرپور میں حالیہ تشدد کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک جماعت اسلامی کے سیاسی کارکن ہلاک ہوا۔
حکومت نے واضح کیا کہ سیاسی تشدد میں ہونے والا کوئی بھی جانی نقصان ناقابل قبول اور انتہائی افسوسناک ہے۔
قومی انتخابات محض دو ہفتے دور ہیں، اس موقع پر عبوری حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں، بشمول بی این پی اور جماعت اسلامی، سے اپیل کی کہ وہ
اپنے حامیوں میں ضبط و تحمل کو فروغ دیں، تشدد، دھمکی اور خونریزی سے اجتناب کریں، اور انتخابی عمل میں ذمہ دار قیادت کا مظاہرہ کریں۔
پولیس تحقیقات اور سیکیورٹی اقداماتدوسری طرف شیرپور میں ہونے والے جھڑپوں اور قتل کی پولیس تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام نے وعدہ کیا ہے کہ تمام ملوث افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ علاقے میں سیکیورٹی کو بھی مضبوط کیا گیا ہے تاکہ انتخابات کے دوران امن قائم رہے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کے دوران تصادم، جماعتِ اسلامی کے سینیئر رہنما جاں بحق
عوام اور امیدواروں کے لیے اپیلحکومت نے تمام سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور انتخابی مہم کے شرکاء سے کہا کہ وہ امن قائم رکھیں، قانون کی پاسداری کریں، ووٹروں کے ساتھ پرامن، تعمیری اور جمہوری انداز میں رابطہ کریں۔ حکومت نے کہا کہ ملک کا مستقبل امن، نظم و ضبط اور جمہوری رویے پر منحصر ہے۔ عبوری حکومت نے دوبارہ عزم کیا کہ وہ پرامن، آزاد اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائے گی، اور کسی بھی قسم کے تشدد یا دھونس کو برداشت نہیں کرے گی۔
بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کے دوران تصادم، جماعتِ اسلامی کے سینیئر رہنما جاں بحقیاد رہے کہ گزشتہ روز بنگلہ دیش کے ضلع شیرپور میں انتخابی سرگرمی کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان کے درمیان ہونے والے تصادم میں جماعتِ اسلامی کے ایک سینیئر رہنما شدید زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد ملک میں انتخابات سے قبل بڑھتے سیاسی تشدد پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
وی نیوز کے مطابق جماعتِ اسلامی کے مقامی رہنما مولانا رضا الکریم ضلع شیرپور کے علاقے ’جھینائی گاتی‘ میں پیش آنے والے تصادم کے دوران شدید زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے شیرپور-3 کے حلقے سے امیدواروں کے انتخابی منشور پڑھنے کی تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں نشستوں کے معاملے پر اختلافات جھگڑے میں تبدیل ہو گئے۔
مولانا رضاالکریم جماعتِ اسلامی کی ’سری بردی اپازلا شاخ‘ کے سیکریٹری تھے اور فتح پور فاضل مدرسہ میں عربی کے لیکچرار بھی تھے۔ انہیں تشویشناک حالت میں میمن سنگھ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق انہیں رات 9 بج کر 35 منٹ پر اسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دیا گیا، جس کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش: دہائیوں بعد جماعت اسلامی ایوان قتدار کے بہت قریب پہنچ گئی، الجزیرہ کی رپورٹ
عینی شاہدین اور مقامی حکام کے مطابق تقریب کے دوران بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان اگلی نشستوں پر بیٹھنے کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی، جو جلد ہی پرتشدد تصادم میں بدل گئی۔ اس دوران سینکڑوں کرسیاں اور کئی موٹر سائیکلیں توڑ دی گئیں جبکہ دونوں جماعتوں کے کم از کم 30 کارکن زخمی ہوئے۔
جماعتِ اسلامی کے شیرپور-3 سے امیدوار نورالزمان (بادل) نے فیس بک پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ حملہ بی این پی کے کارکنوں نے کیا، جس میں جماعتِ اسلامی کے 50 سے زائد کارکن زخمی ہوئے، جبکہ 3 کی حالت تشویشناک ہے۔
جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پروار نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی۔ اے بی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی واقعے کو منظم سیاسی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ادھر جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم، اسلامی چھاترا شبِر نے واقعے کے خلاف ڈھاکا یونیورسٹی میں رات گئے احتجاج کیا اور مولانا رضاالکریم کے قتل پر انصاف کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ بنگلہ دیش میں آئندہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی اور انتخابی تشدد کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی عبوری حکومت اور جماعت بنگلہ دیش اسلامی کے بی این پی کے مطابق کے دوران حکومت نے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔