Juraat:
2026-07-24@01:06:18 GMT

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

عبدالماجدقریشی

بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق دلائل سننے سے انکار کر دیا اور اسکی قانون ساز اسمبلی کے حلقوں کی تشکیل نو کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 29نومبر کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا کی درخواست پر مقدمے کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کی۔ جسٹس ایس کے کول اور اے ایس اوکا پر مشتمل بنچ نے تشار مہتا کو مزید دستاویزات ایک ہفتہ کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔اس سے قبل2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی و جموں و کشمیر کی حکومتوں کو سرزنش کرتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور شہری آزادی کم کرنے سے متعلق معاملات میں فوری طور پر جواب داخل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے شہری کرفیو کی پابندیوں میں جی رہے ہیں۔ خوراک ، ادویات ، دودھ اور دیگر اشیائے زندگی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے مگر بھارتی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ بھارتی وزارت داخلہ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وادی میں ٹیلی مواصلات، انٹرنیٹ ، ریڈیو اور سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کی معطلی، سیاحوں کی بے دخلی، کرفیو، سیاسی کارکنوں اور نوجوان کشمیریوں کو حراست میں لینے کے احکامات کب، کس نے، کہاں دیئے۔ وزارت داخلہ کو کشمیر بارے کوئی معلومات بھی نہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ کشمیر بارے معلومات صرف ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کے پاس سے مل سکتی ہیں۔
مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف اب تو خود بھارت سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور عالمی دنیا بھی اس جانب توجہ مبذول کیے ہوئے ہے۔مظلوم کشمیریوں نے اب تک اپنی زندگی کا ہر پل خوف کے سائے میں اپنی زندگی کی امید میں گزارا ہے جن کیلئے کھانے پینے کی اشیاء اور جان بچانے والی ادویات تک رسائی بھی ممکن نہیں رہی۔ انکے روزگار چھن چکے ہیں’ کاروبار تباہ ہوچکے ہیں اور تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث انکے بچوں کا مستقبل بھی دائو پر لگ چکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انہیں اپنی مذہبی عبادات کی بھی آزادی نہیں۔ وہ مساجد میں جاکر نماز جمعہ تک ادا نہیں کرسکے۔ جب آزادی کی تڑپ رکھنے والے کشمیری کرفیو کی پابندیاں توڑ کر باہر نکلتے ہیں تو انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ مودی سرکار کے مظالم بڑھتے چلے ہی جارہے ہیں جو کشمیر میں ہندو راج کی منصوبہ بندی کئے بیٹھی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس خصوصی حیثیت کی بحالی کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارٹی کے کارکن خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے جاری جدوجہداورنئے منشور سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ ہمارے سامنے ایک بہت ہی سخت امتحان ہے، جس کا مقابلہ ہمیں کندھے سے کندھا ملا کر، یک زبان اور یک جہت ہوکر کام کرنا ہے اور اس کیلئے پارٹی کا مضبوط ہونا اولین شرط ہے۔ ا قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی نے متفقہ طور پر نوآبادیاتی اور غیر ملکی قبضے کا شکار لوگوں کے لیے حق خودارادیت کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ جنرل اسمبلی دسمبر2022 میں نوآبادیاتی اور غیر ملکی قبضے کا شکار لوگوں کے لیے حق خودارادیت کی قرارداد کی توثیق کرے گی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ قبضے کے شکار لوگوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے پاکستان کی پیش کر دہ قرارداد کی اقوام متحدہ کے ایک پینل کی طرف منظوری بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ غیر ملکی قبضے کے تحت لوگوں کے حق خودارادیت سے متعلق پاکستان کی قرارداد کی وسیع حمایت اور متفقہ توثیق مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر عوام کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ قرارداد 72 ممالک کے تعاون سے جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں متفقہ طور پر منظور کی گئی، جو سماجی، انسانی اور ثقافتی مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی کئی دیگر قراردادوں سے متعلق ہے۔ یہ قرارداد پاکستان 1981 سے اقوام متحدہ میں پیش کر رہا ہے۔ قرارداد اگلے ماہ جنرل اسمبلی کی توثیق کے لیے پیش کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) نے بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر’شدید تشویش’ کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ خطے میں تمام حقوق کو مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان روپرٹ کولویل کا کہنا ہے کہ بھارتی زیر تسلط کشمیر میں عوام کے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق سے محروم ہونے پر شدید تشویش ہے اور ہم بھارت کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ معمول کی صورت حال کو بحال کریں۔ بھارت کی حکومت نے 5 اگست2019 کو جموں و کشمیر کی ریاست کو جزوی طور پر حاصل خود مختاری کا قانون ختم کیا اور وفاقی کنٹرول میں دو یونین بنانے کا اعلان کیا تھا۔ مقبوضہ خطے میں اس وقت بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ انسانی حقوق پر ان کے اثرات وسیع پیمانے پر مسلسل پڑر ہے ہیں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بھارتی سپریم کورٹ جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کشمیر کی کشمیر کے لوگوں کے کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی