جہان دیگر
۔۔۔۔۔۔
زریں اختر
روزنامہ جرات صفحہء اوّل ١٨ ِ جنوری ٢٠٢٦ء کی چھ کالمی شہ سرخی ہے :”قومی اسمبلی ،فوج اور عدلیہ کے خلاف تقاریر روکنے کا اعلان”، اخبار نے اپنی خبر لگائی ۔ روزنامہ جنگ کی اسی روز کی اشاعت میں صفحہء اوّل کے نصف آخر میں صابن کی نیلی پٹی کے اشتہاراور جنید صفدر کی شادی کی خبر کے نیچے ،دوکالمی خبر ہے کہ :”کسی کو پارلیمنٹ میں ریاست، عدلیہ ،فوج مخالف بات نہیں کرنے دوں گا،اسپیکر”۔ اسپیکر صاحب نے اگر ایسا فرمایا ہے(اور اپنی رٹ قائم کی ہے یا یاد دہانی کرائی ہے) تو خبر یہ بھی معروضی ہوئی ،کیا ہوا اگر بیان کے طور پر شائع کی ؟فرق یہ کہ جرأت نے اسپیکر کے بیان پر اپنی خبر دی اور جنگ نے اسپیکر کا بیان لگایا (ایجنڈا سیٹنگ و ایجنڈا بلڈنگ پر بات کسی اور وقت )۔روزنامہ ایکسپریس میں مذکورہ تاریخ پر یہ خبر شائع نہیں ہوئی ، ایک خبر میں اسپیکر کے بیان کا حوالہ ضرور ہے،اس میں جمہوریت کے تصور کے پس منظر میں اسپیکر کے بیا ن کو موضوع بنایا گیااور سوال نما جواز بھی فراہم کیا کیوں کہ جواب نہیں تھا (چوپال، گوڑھی گل چوہدری لطیف دے نال)۔اسپیکر کے بیان کا تعلق نہ صرف ملک بلکہ خود ایوان کے جمہوری ماحو ل سے ہے لیکن اس وقت موضوع جمہوریت بھی نہیں۔
نظام (سسٹم ) اور ادارے کے تصور کی تعریف ضرور ملیں گی کہ نظام کسے کہتے ہیں یا ادارے سے کیا مراد ہے،لیکن جب یہ کہا جاتا ہے کہ پورا نظام ہی خراب ہے یا ادارے کے خلاف بات نہیں کی جائے گی تو یہ تصورات عجیب تجریدی شکل اختیار کرلیتے ہیں،سچ بتائوں تو مجھے ریاست کا تصور بھی اتنا ہی تجریدی لگتا ہے ۔
١٩٩٣ء کی بات ہوگی جب جامعہ کراچی شعبہ ابلاغِ عامہ میں روز نامہ جنگ نے سیمینار کیا اورجنگ کو ملنے والے نیوز پرنٹ پر حکومتی اقدامات یا پابندی کو اظہارِ آزادی پر قدغن قرار دیا۔ جنگ ایک کامیاب صنعتی ادارہ ہے جو کاروبار کے اصولوں پہ چلتا ہے ،کسی کو اس پر کیا اعتراض ،لیکن جو بڑا فرق ہے وہ یہ کہ خبر بیچنا باٹا کے جوتے بیچنے جیسا کام نہیں، جنگ پر لگائی گئی بندش کا حریت ِ رائے سے کوئی سمبندھ نہیں تھا ،یہ جنگ کی اس جنگ کو حق و باطل کی جنگ ثابت کرنے کی اپنی سی جنگ تھی ،سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے فرمایا کہ :”ہم نے بھی روزنامہ جنگ میں کا م کیا ہے ،ہمیں معلوم ہے کہ وہا ںاپنی بات کرنے کی کتنی آزادی ہے ”۔
ادارے افراد سے ہیں؟ یا افراد اداروں سے ؟
فرد یا ادارہ؟ یہاں موضوع انفرادی آزادی کی بحث نہیں۔اگر بنا لیں تو ‘فرد’ محض مقدم نہیں ہے بلکہ ذمہ دار بھی ہے ۔(یہاں فرد اپنی ذات میں ادارہ نہیں ہے،یہ پھر الگ موضوع ہے ،جیسے ایدھی ، روتھ فائو اور ادیب رضوی)۔
بنا فیلڈ میں لڑے آرمی چیف اپنے سر فیلڈ مارشل کا سہرا کیسے سجاسکتے ہیں؟ یہ سوال ہے ، عوام کا سوال ہے ،اس کا جواب دینے کے بجائے اگر اس سوال کو فوج کے ادارے کے خلاف منسوب کر دیا جائے،غداری کا مقدمہ قائم کردیا جائے تو بتائیں کہ ہم کیسی جمہوریت پال رہے ہیں؟ افراد کے اعمال سے متعلق سوال یا بیان کو ان کے اداروں کے خلاف کیوں سمجھا جائے ؟ کیا اے آئی کے عہد میں یہ ہمارے لیے اب تک ایسے ہی ابہام یا اندھیر ہے؟عوام کے لیے جسے ابہام بنائو گے وہ وقت کا اندھیر ہے اور ایسا نہیں کہ یہ آپ نہیں جانتے ، آپ تو جانتے بوجھتے کررہے ہیں۔یہ آپ کا انتخاب ہے ،اور سمجھنے والے بھی ہر دور میں ہوتے ہیں ،قحط الرّجال بھی ایک انوکھا تجریدی خیال ہے۔
شہری عدالت کا کوئی سائل شہری عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل میں عدالتِ عالیہ جاتا ہے ،عدالتِ عالیہ کے فیصلے کے خلاف عدالتِ عظمیٰ کا دروازہ کھٹ کھٹاتا ہے ، اور بعض صورتوں میں عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف صدر سے اپیل کرتاہے، یہ اس کا قانونی حق ہے ،کسی عدالت کا کوئی منصف اسے ہتک عزت کا مسئلہ کیوں نہیں بناتا؟ کیا اس پردے میں کہ یہ سائل کا قانونی حق ہے ؟ کیا منصفین قانون ،سماج اور نفسیاتی پیچیدگیوں سے واقف نہیں ہوتے ؟کتنی دماغ سوزی کے بعد ہی فیصلہ کرتے ہیں، اور اس کو چیلنج کردیا جائے ،یہاں منصفین کو اس طرح مقدس نہیں بنایا جاتا، کیوں ؟ کیوں کہ سائل کا قانونی حق اور عدلیہ کا وقار اہم ہے ،منصفین کا نہیں۔
اگرجمہوری حکومت میں عوام کے نمائندے (منتخب یاچنتخب) ایوان میں کسی فوج یا عدالت سے وابستہ کسی فوجی یا منصف کے بارے میں ( اس کی بنیادیں کیاذاتی ہوں گی؟یقینا نہیں) کوئی ایسی بات جو کسی عمل پر سوال اٹھائے ،نہیں کرسکتا تو عوام کو تو سوچنا بھی نہیں چاہیے بلکہ سوچنے کا بھی نہیں سوچنا چاہیے۔ آپ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں (پینے کا صاف پانی، بجلی ، گیس، صحت کی سہولتیں ،سڑکیں ،یکساں تعلیمی نظام،روزگارکے مساوی مواقع،انصاف ) دے دیں ، ہمیں کیا پڑی کہ ہم سوچیں اور سوال کریں۔
نظام اور ادارے کا نظم و نسق قانونی و اخلاقی حدبندیوں سے وابستہ ہے ، قانون میں تبدیلیوں اور ترامیم کے بھی قوانین وضع ہیں ، اس میں بھی کتنی ہی اکھاڑ پچھاڑ اور موشگافیوں کی درزیں اور دراڑیں ہیں ،یہ سب چلتا رہے لیکن تقدس ادارے کا ہے ،افراد کا نہیں ۔لیکن اگر افراد یا فرد کے اعمال درست نہ ہوں یا بگڑ جائیں تو کیابات نہیں ہو گی؟ سوال نہیں کیا جائے گا؟ اس کو ادارے کے خلاف کیوں سمجھا جائے؟ افراد بھی کیا مقدس گائے ہیں؟ کوڈ آف کنڈکٹ کو کہیں لے جاکرکیوں نہیں پھینک دیتے؟
اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان میں بیٹھے سیاست دانوں کو ان کی اوقات یاد دلا دی ہے ، انہیں نہیں چاہیے کہ یہ بھولیں ،ہم بہت بھولے ہیں، اور ہم یہ سمجھ گئے ہیں کہ عدلیہ ، فوج سے وابستہ آدمیوں (جن سے خطا بھی ممکن نہیں) کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات کرنا پاکستان اور ریاست کے مفاد کے خلاف اور اس کی سالمیت پر براہِ راست حملہ سمجھا جائے گا، کوئی اس کو ہلکا نہ لے۔
اسپیکر صاحب ! مجھے بھی بس اتنا ہی کہنا تھا ،شما چاہتی ہوں۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسپیکر کے ادارے کے کے خلاف
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔