نیپاہ وائرس پر الرٹ، محکمہ صحت نے پھیلاؤ اور علامات سے آگاہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی: بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد محکمہ صحت سندھ نے احتیاطی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق یہ وائرس جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے، تاہم پاکستان میں اب تک نیپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس مختلف وجوہات کی بنا پر پھیل سکتا ہے، جبکہ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، جسم میں درد اور الٹی شامل ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں۔
محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نیپاہ وائرس
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔