نیپاہ وائرس پر الرٹ، محکمہ صحت نے پھیلاؤ اور علامات سے آگاہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی: بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد محکمہ صحت سندھ نے احتیاطی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق یہ وائرس جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے، تاہم پاکستان میں اب تک نیپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس مختلف وجوہات کی بنا پر پھیل سکتا ہے، جبکہ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، جسم میں درد اور الٹی شامل ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں۔
محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نیپاہ وائرس
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔