—فائل فوٹو

بانئ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے بانی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواست انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں دائر کر دی۔

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے پراسیکیوشن کو کل کے لیے نوٹسز جاری کر دیے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو جیل میں رسائی دی جائے۔ 

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر خرم مرزا اور ڈاکٹر سمینہ نیازی کو بانی کے طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔ متعلقہ ڈاکٹرز بانی کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ ہیں۔

عطاء تارڑ کی بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں کی وضاحت

ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی کو معمولی طبی کارروائی کے لیے پمز لے جانا ضروری ہے: عطاء تارڑ

بانئ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے درخواست میں کہا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ان کی فیملی کو تشویش ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے بانئ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی بالکل ٹھیک ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ آنکھوں کے ماہرین نے بانئ پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں معائنہ کیا تھا، ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی کو معمولی طبی کارروائی کے لیے پمز لے جانا ضروری ہے۔

عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کی رات آنکھوں کے ماہرین کی رائے کے بعد بانئ پی ٹی آئی کو پمز اسپتال لے جایا گیا، 20 منٹ کے معائنے کے بعد ان کو واپس روانہ کر دیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ پمز میں بانئ پی ٹی آئی کی آنکھوں کا معائنہ ہوا، دوران طبی معائنہ وہ مکمل صحت مند تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کہ بانئ پی ٹی آئی بانئ پی ٹی آئی کی عطاء تارڑ تھا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری