بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
بانئ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے بانی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواست انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں دائر کر دی۔
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے پراسیکیوشن کو کل کے لیے نوٹسز جاری کر دیے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو جیل میں رسائی دی جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر خرم مرزا اور ڈاکٹر سمینہ نیازی کو بانی کے طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔ متعلقہ ڈاکٹرز بانی کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ ہیں۔
ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی کو معمولی طبی کارروائی کے لیے پمز لے جانا ضروری ہے: عطاء تارڑ
بانئ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے درخواست میں کہا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ان کی فیملی کو تشویش ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے بانئ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی بالکل ٹھیک ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ آنکھوں کے ماہرین نے بانئ پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں معائنہ کیا تھا، ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی کو معمولی طبی کارروائی کے لیے پمز لے جانا ضروری ہے۔
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کی رات آنکھوں کے ماہرین کی رائے کے بعد بانئ پی ٹی آئی کو پمز اسپتال لے جایا گیا، 20 منٹ کے معائنے کے بعد ان کو واپس روانہ کر دیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ پمز میں بانئ پی ٹی آئی کی آنکھوں کا معائنہ ہوا، دوران طبی معائنہ وہ مکمل صحت مند تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہ بانئ پی ٹی آئی بانئ پی ٹی آئی کی عطاء تارڑ تھا کہ
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔