دکی میں اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بلوچستان کے ضلع دکی میں اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے میں بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی ہے، جہاں نامعلوم افراد کھڑکی توڑ کر مختلف مقدمات کی کیس پراپرٹی، چھ من سے زائد افیون اور چرس چوری کر کے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:تعلیمی اداروں اور مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈاؤن، 6 ملزمان گرفتار
دکی میں اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے میں ہونے والی اس واردات میں ڈاکوؤں نے انتہائی منصوبہ بندی کا مظاہرہ کیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے صرف اسی کمرے کی کھڑکی توڑی جہاں منشیات رکھی گئی تھیں، جبکہ دیگر کمروں یا سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا، جس سے واقعے کی نوعیت پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ایس ایچ او دکی فرمان علی کھوسہ نے ڈکیتی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مال خانے سے مجموعی طور پر 270 کلو منشیات چوری ہوئی ہیں، جن میں 233 کلو افیون اور 37 کلو چرس شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ منشیات مختلف مقدمات میں لیویز فورس کی جانب سے برآمد کی گئی تھیں اور ان مقدمات کا فیصلہ تاحال عدالتوں میں زیر التوا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے اور پولیس و انتظامیہ مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہی ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔
واقعے کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ جب مال خانہ لیویز لائن میں موجود ہے تو برآمد شدہ منشیات کو اسسٹنٹ کمشنر آفس میں کیوں رکھا گیا، جسے سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگین غفلت قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسسٹنٹ کمشنر دکی منشیات منشیات چوری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دکی منشیات منشیات چوری
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک