4 سال قبل اغوا لڑکی کی عدم بازیابی پر ہائیکورٹ برہم، آر پی او ساہیوال کی طلبی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور (خبر نگار) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے چار سال قبل اغواءہونے والی کمسن لڑکی کی عدم بازیابی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آر پی او ساہیوال رانا ایاز سلیم کوآج (جمعرات) ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری نادر علی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے اپنی پندرہ سالہ بھانجی کی بازیابی کے لیے ستمبر 2022ءمیں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جبکہ مغوی لڑکی کے والدین قوتِ گویائی اور سماعت سے محروم ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وقاص عمر پیش ہوئے اور رپورٹ پیش کی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کے وکیل طاہر عباس رضوی سے استفسار کیا کہ کیا بازیابی کی درخواست کے ساتھ مقدمہ بھی درج کروایا گیا تھا، وکیل نے بتایا کہ مقدمہ درج ہے اور شہباز علی، عثمان سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی، دوران سماعت ایس ایچ او نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس تفتیش کے مطابق لڑکی اپنی مرضی سے گھر سے گئی تھی تاہم اب تک بازیاب نہیں ہو سکی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نامزد ملزمان کو 2022ءمیں مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کن شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو مقدمے سے خارج کیا گیا تاہم چیف جسٹس کے سوال پر ایس ایچ او تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا۔ عدالت نے تفتیشی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آر پی او ساہیوال رانا ایاز سلیم کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور سماعت آج تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔